۵۸۵۸: حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ قَالَ : أَخْبَرَنِیْ مَالِکٌ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنِ ابْنِ الْمُسَیِّبِ وَأَبِیْ سَلَمَۃَ مِثْلَہٗ۔فَکَانَ ہٰذَا الْحَدِیْثُ مَقْطُوْعًا وَالْمَقْطُوْعُ - عِنْدَہُمْ - لَا تَقُوْمُ بِہٖ حُجَّۃٌ .ثُمَّ لَوْ ثَبَتَ ہٰذَا الْحَدِیْثُ وَاتَّصَلَ اِسْنَادُہُ لَمْ یَکُنْ فِیْہِ - عِنْدَنَا - مَا یُخَالِفُ الْحَدِیْثَ الَّذِیْ ذٰکَرْنَاہُ عَنْ عَطَائٍ عَنْ جَابِرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ .لِأَنَّ الَّذِیْ فِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ اِنَّمَا ہُوَ قَوْلُ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَضٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِالشُّفْعَۃِ فِیْمَا لَمْ یُقْسَمْ .فَکَانَ بِذٰلِکَ مُخْبِرًا عَمَّا قَضٰی بِہٖ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ .ثُمَّ قَالَ بَعْدَ ذٰلِکَ فَاِذَا وَقَعَتِ الْحُدُوْدُ فَلَا شُفْعَۃَ وَکَانَ ذٰلِکَ قَوْلًا مِنْ رَأْیِہِ لَمْ یَحْکِہِ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ .وَاِنَّمَا یَکُوْنُ ہٰذَا الْحَدِیْثُ حُجَّۃً عَلَی مَنْ ذَہَبَ اِلَی وُجُوْبِ الشُّفْعَۃِ بِالْجِوَارِ لَوْ کَانَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ الشُّفْعَۃُ فِیْمَا لَمْ یُقْسَمْ فَاِذَا وَقَعَتِ الْحُدُوْدُ فَلَا شُفْعَۃَ .فَیَکُوْنُ ذٰلِکَ نَفْیًا مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمَا قَدْ قُسِمَ أَنْ تَکُوْنَ فِیْہِ الشُّفْعَۃُ .وَلٰـکِنَّ أَبَا ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ اِنَّمَا أَخْبَرَ فِیْ ذٰلِکَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِمَا عَلِمَہٗ مِنْ قَضَائِہِ ثُمَّ نَفَی الشُّفْعَۃَ بِرَأْیِہِ بِمَا لَمْ یَعْلَمْ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْہِ حُکْمًا وَعَلِمَہُ غَیْرُہٗ۔ ثُمَّ قَدْ رَوَی مَعْمَرٌ ہٰذَا الْحَدِیْثَ عَنِ الزُّہْرِیِّ فَخَالَفَ مَالِکًا فِیْ مَتْنِہِ وَفِیْ اِسْنَادِہٖ۔
٥٨٥٨: مالک نے ابن شہاب سے انھوں نے ابن مسیب اور ابی سلمہ سے اسی طرح روایت نقل کی ہے۔ جب اس روایت کا مقطوع ہونا ثابت ہوگیا تو فریق اول کے ہاں مقطوع قابل حجت نہیں۔ بالفرض اگر یہ روایت متصل سند سے ثابت ہوجائے تو پھر بھی اس میں ہماری روایت کے خلاف کوئی دلیل نہیں جو کہ ہم عطاء عن جابر (رض) نقل کر آئے ہیں کیونکہ اس روایت میں ابوہریرہ (رض) کا قول ہے۔ کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غیر تقسیم شدہ میں شفعہ کا فیصلہ فرمایا۔ تو اس سے انھوں نے اس بات کی اطلاع دی ہے جو کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فیصلہ فرمایا پھر اس میں فرمایا اذا وقعت الحدود فلا شفعۃ “ اور ان کا اجتہادی قول ہے انھوں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نہ نقل کیا نہ نسبت کی۔ اس روایت کو اس وقت ان لوگوں کے خلاف دلیل میں پیش کیا جاسکتا ہے جو پڑوس کی وجہ سے حق شفعہ کو واجب قرار دیتے ہیں جبکہ اس طرح فرمایا ہوتا کہ شفعہ اس میں ہے جو تقسیم نہ ہوا ہو۔ جب حدود قائم کردی گئیں اس وقت شفعہ نہیں ہے۔ تو اس صورت میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے منقسم چیز میں شفعہ نہ ہونے کی نفی ہوتی۔ لیکن ابوہریرہ (رض) نے یہاں اس فیصلے کی اطلاع دی جو انھوں نے معلوم کیا۔ پھر انھوں نے اپنی رائے و اجتہاد سے شفعہ کی نفی کی جس کا انھیں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے علم حاصل نہ ہوا اور دوسرے حضرات کو معلوم ہوا۔ اس روایت کو معمر نے زہری سے روایت کیا مگر وہ روایت متن و سند دونوں کے لحاظ سے امام مالک سے مختلف ہے۔ روایت ملاحظہ ہو۔