hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 586

.

الطحاوي

586
Al Tahawi
۵۸۶ : حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَ : ثَنَا وَہْبٌ، عَنْ شُعْبَۃَ، فَذَکَرَ مِثْلَہٗ بِإِسْنَادِہٖ .فَلَمَّا انْتَفٰی عِنْدَ أَبِیْ عُبَیْدَۃَ أَنَّ أَبَاہُ کَانَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَیْلَتئِذٍ، وَھٰذَا أَمْرٌ لَا یَخْفَی مِثْلُہٗ عَلٰی مِثْلِہٖ، بَطَلَ بِذٰلِکَ مَا رَوَاہُ غَیْرُہٗ مِمَّا یُخْبِرُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَعَلَ لَیْلَتئِذٍ، اِذْ کَانَ مَعَہٗ .فَإِنْ قَالَ قَائِلٌ : الْآثَارُ الْأُوَلُ أَوْلٰی مِنْ ھٰذَا لِأَنَّہَا مُتَّصِلَۃٌ، وَھٰذَا مُنْقَطِعٌ لِأَنَّ أَبَا عُبَیْدَۃَ، لَمْ یَسْمَعْ مِنْ أَبِیْہِ شَیْئًا .قِیْلَ لَہٗ : لَیْسَ مِنْ ھٰذِہِ الْجِہَۃِ احْتَجَجْنَا بِکَلَامِ أَبِیْ عُبَیْدَۃَ، إِنَّمَا احْتَجَجْنَا بِہٖ لِأَنَّ مِثْلَہٗ، عَلَی تَقَدُّمِہٖ فِی الْعِلْمِ، وَمَوْضِعِہٖ مِنْ عَبْدِ اللّٰہِ، وَخُلْطَتِہٖ لِخَاصَّتِہٖ مِنْ بَعْدِہٖ - لَا یَخْفٰی عَلَیْہِ مِثْلُ ھٰذَا مِنْ أُمُوْرِہٖ .فَجَعَلْنَا قَوْلَہٗ ذٰلِکَ حُجَّۃً فِیْمَا ذَکَرْنَاہُ، لَا مِنَ الطَّرِیْقِ الَّذِیْ وُضِعَتْ .وَقَدْ رَوَیْنَا عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ مِنْ کَلَامِہٖ بِالْاِسْنَادِ الْمُتَّصِلِ، مَا قَدْ وَافَقَ مَا قَالَ أَبُوْ عُبَیْدَۃَ .
٥٨٦: وہب نے کہا شعبہ نے اپنی سند سے اسی طرح روایت بیان کی ہے۔ جب ابن مسعود (رض) کے بیٹے نے اپنے والد کے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ہونے کی نفی کردی تو یہ ایسی چیز ہے جو ان کے بیٹے پر مخفی نہیں رہ سکتی تو ان سے دوسروں کا یہ روایت کرنا کہ ابن مسعود (رض) جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی معیت میں تھے اور آپ نے نبیذ سے وضو کیا۔ اگر کوئی شخص معترض ہو کہ پہلے آثار اس اثر کے مقابلے میں اولیٰ ہیں کیونکہ وہ متصل ہیں اور یہ منقطع ہے کیونکہ ابوعبیدہ نے اپنے والد سے کوئی روایت نہیں سنی۔ اس کے جواب میں ہم عرض کریں گے ‘ اس دلیل میں ہم نے ابو عبید کے قول کو دلیل نہیں بنایا بلکہ ہم نے ان سے اس لیے استدلال کیا کہ ان جیسا علم میں فوقیت رکھنے والا شخص جس کو اپنے والد کے ہاں قرب کا درجہ میسر ہو اس سے یہ معاملہ کیونکر مخفی رہ سکتا ہے۔ ہم نے اس طور پر ان سے استدلال کیا ہے اس طور پر استدلال نہیں کیا گیا جو معترض کے پیش نظر ہے بلکہ ہم نے ابن مسعود (رض) سے ان کا کلام متصل سند کے ساتھ بھی روایت کیا ہے جو ابوعبید کے قول کی موافقت میں ہے چنانچہ ملاحظہ ہو۔
حاصل جواب :
یہ ہوا کہ جب ابو عبید خود اپنے والد کے متعلق لیلۃ الجن میں جانے کی نفی کر رہے ہیں تو جس بات پر بنیاد تھی وہ ختم ہوگئی پس ان روایات سے نبیذ تمر سے جواز وضو کا استدلال باطل ہوگیا۔
ایک اشکال :
یہ دونوں اثر سند کے لحاظ سے منقطع ہیں کیونکہ ابو عبید کا اپنے والد سے سماع ثابت نہیں۔
الجواب : ہم نے اس لحاظ سے استدلال نہیں کیا بلکہ اس لحاظ سے کیا ہے کہ ایسے بڑے عالم کے بیٹا ہونے کے حوالے سے اور ان سے گھر میں میل جول کے لحاظ سے ایسے آدمی پر ایسی چیز مخفی نہیں رہ سکتی بلکہ اس سے کچھ آگے بڑھ کر ہم عرض کرتے ہیں۔
خود صحیح روایت سے ابن مسعود (رض) سے ان کی غیر موجودگی کا اقرار پایا جاتا ہے۔
ملاحظہ فرمائیں