۵۸۷۰: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوٗدَ قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِیْرٍ قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ عَنْ أَبِیْ حَیَّانَ عَنْ أَبِیْھَاعَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَیْثٍ مِثْلَہٗ۔فَفِیْ ہٰذِہِ الْآثَارِ وُجُوْبُ الشُّفْعَۃِ بِالْجِوَارِ .فَاِنْ قَالَ قَائِلٌ : قَدْ یَجُوْزُ أَنْ یَکُوْنَ ہٰذَا الْجَارُ شَرِیْکًا فَاِنَّہٗ قَدْ یُقَالُ لِلشَّرِیْکِ جَارٌ .قِیْلَ لَہٗ : مَا فِی الْحَدِیْثِ مَا یَدُلُّ عَلٰی شَیْئٍ مِمَّا ذَکَرْتُ وَلٰـکِنَّہٗ قَدْ رُوِیَ عَنْ أَبِیْ رَافِعٍ مَا قَدْ دَلَّ عَلٰی أَنَّ ذٰلِکَ الْجَارَ ہُوَ الَّذِی لَا شَرِکَۃَ لَہٗ۔
٥٨٧٠: ابو حیان نے اپنے والد سے انھوں نے عمرو بن حریث سے اسی طرح کی روایت کی ہے۔
حاصل کلام : یہ روایات ثابت کر رہی ہیں کہ ہمسائیگی سے شفعہ لازم ہے۔
سوال : یہ عین ممکن ہے کہ یہ پڑوسی شریک ہو اس لیے کہ شریک کو جار کہا جاتا ہے۔
جواب : حدیث میں تو کوئی چیز ایسی نہیں جو اس پر دلالت کرے جو آپ نے ذکر کی لیکن ابو رافع سے یہ مروی ہے کہ اس سے مراد وہ پڑوسی ہے جو کہ شریک نہ تھا۔