۵۸۸۱: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُزَیْمَۃَ قَالَ : ثَنَا یُوْسُفُ بْنُ عَدِی قَالَ : ثَنَا ابْنُ اِدْرِیْسَ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ عَطَائٍ عَنْ جَابِرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ : قَضٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِالشُّفْعَۃِ فِیْ کُلِّ شَیْئٍ .فَلَمَّا کَانَ الشَّرِیْکُ فِی الطَّرِیْقِ یُسَمَّی شَرِیْکًا کَانَ دَاخِلًا فِیْ ذٰلِکَ .فَاِنْ قَالَ قَائِلٌ : فَاِنَّہٗ لَا تَقُوْلُ بِہٰذَا الْحَدِیْثِ لِأَنَّہٗ یُوْجِبُ الشُّفْعَۃَ فِیْ کُلِّ شَیْئٍ مِنْ حَیَوَانٍ وَغَیْرِہِ وَأَنْتَ لَا تُوْجِبُ الشُّفْعَۃَ فِی الْحَیَوَانِ .قِیْلَ لَہٗ : لَیْسَ ہٰذَا عَلٰی مَا ذَکَرْت اِنَّمَا مَعْنَی الشُّفْعَۃِ فِیْ کُلِّ شَیْئٍ أَیْ : فِی الدُّوْرِ وَالْعَقَارِ وَالْأَرَضِیْنَ .وَالدَّلِیْلُ عَلٰی ذٰلِکَ مَا قَدْ رُوِیَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا .
٥٨٨١: عطاء نے جابر (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہر چیز میں شفعہ کا فیصلہ فرمایا۔ جب راستہ میں شریک کو شریک کہا جاتا ہے تو وہ اس میں داخل ہوگا (جو شفع کرسکتے ہیں) اگر یہ کہا جائے کہ تم یہ روایت پیش کر رہے ہو حالانکہ تم ہر چیز میں تو شفعہ کے قائل نہیں مثلاً حیوان وغیرہ۔ تو اس کے جواب میں کہا جائے گا اس طرح اس روایت کا مفہوم نہیں اس کا مفہوم یہ ہے۔ شفعہ ہر چیز میں ہے یعنی تمام گھروں ‘ بنجر و آباد زمینوں میں اور اس کی دلیل ابن عباس (رض) کی یہ روایت ہے۔