۵۸۸۳: حَدَّثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَ : ثَنَا وَہْبُ بْنُ جَرِیْرٍ قَالَ : ثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أَبِی السَّفَرِ عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِیِّ عَنْ خَارِجَۃَ بْنِ الصَّلْتِ عَنْ عَمِّہِ أَنَّہٗ قَالَ : أَقْبَلْنَا مِنْ عِنْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَتَیْنَا عَلٰی حَی مِنْ أَحْیَائِ الْعَرَبِ فَقَالُوْا لَنَا : اِنَّکُمْ قَدْ جِئْتُمْ مِنْ عِنْدِ ہٰذَا الْحَبْرِ بِخَیْرٍ فَہَلْ عِنْدَکُمْ دَوَائٌ أَوْ رُقْیَۃٌ أَوْ شَیْئٌ ؟ فَاِنَّ عِنْدَنَا مَعْتُوْہًا فِی الْقُیُوْدِ .قَالَ : فَقُلْنَا نَعَمْ .فَجَائُوْا بِہٖ فَجَعَلْتُ أَقْرَأُ عَلَیْہِ بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ ثَلَاثَۃَ أَیَّامٍ غَدْوَۃً وَعَشِیَّۃً أَجْمَعُ بُزَاقِی ثُمَّ أَتْفُلُ فَکَأَنَّمَا أُنْشِطَ مِنْ عِقَالٍ فَأَعْطَوْنِیْ جُعْلًا فَقُلْتُ :لَا حَتّٰی أَسْأَلَ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتُہٗ فَقَالَ کُلْ فَلَعَمْرِی لَمَنْ أَکَلَ بِرُقْیَۃِ بَاطِلٍ لَقَدْ أَکَلْتُ بِرُقْیَۃِ حَق .
٥٨٨٣: شعبی نے خارجہ بن صلت سے انھوں نے اپنے چچا سے روایت نقل کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے لوٹے تو ہمارا گزر ایک عرب قبیلہ کے پاس سے ہوا۔ تو انھوں نے ہم سے کہا تم اس بڑے عالم کی طرف سے بہتری لائے ہو۔ کیا تمہارے پاس کوئی دوائی یا جھاڑ یا اور کوئی چیز ہے۔ کیونکہ ہمارے پاس ایک دیوانہ بیڑیوں میں جکڑا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ ہم نے کہا ہاں۔ چنانچہ وہ اس دیوانہ کو ہمارے پاس لائے میں نے اس پر تین روز صبح و شام سورة فاتحہ پڑھی میں اپنے لعاب کو جمع کر کے اس پر تھوکتا رہا۔ گویا وہ رسّی سے کھل گیا۔ انھوں نے مجھے کچھ اجرت دی۔ میں نے کہا جب تک میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کے متعلق دریافت نہ کرلوں اس وقت تک نہ لوں گا۔ میں نے دریافت کیا تو آپ نے فرمایا اس کو کھاؤ۔ مجھے اپنی عمر کی قسم ہے جو آدمی باطل جھاڑ پھونک سے کھائے تو وہ باطل اور ناجائز ہے تو نے تو سچّے دم سے کھایا ہے۔
تخریج : ابو داؤد فی الطب باب ١٩‘ مسند احمد ٥؍٢١١۔
اجارہ : تملیک منافع مع العوض کو کہا جاتا ہے تعلیم قرآن مجید پر اجرت کے سلسلہ میں ایک رائے یہ ہے تعلیم قرآن پر اجرت میں کوئی حرج نہیں ہے۔
نمبر 2: تعلیم قرآن پر اجرت جائز نہیں ہے اس قول کو ائمہ احناف نے اختیار کیا ہے۔