۵۸۹۳: حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ شَیْبَۃَ قَالَ : ثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَۃَ قَالَ : أَنْبَأْنَا سَعِیْدٌ قَالَ : ثَنَا عَوْنٌ بْنُ أَبِیْ جُحَیْفَۃَ أَنَّہٗ قَالَ : قَدْ اشْتَرَی أَبِیْ حَجَّامًا فَکَسَرَ مَحَاجِمَہُ .فَقُلْتُ لَہٗ : یَا أَبَتِ لِمَ کَسَرْتُہٗ َا ؟ فَقَالَ : اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَہٰی عَنْ ثَمَنِ الدَّمِ .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : وَلَیْسَ فِیْ ہٰذَا دَلِیْلٌ عَلَی تَحْرِیْمِ کَسْبِ الْحَجَّامِ وَلٰـکِنْ اِنَّمَا أَتَیْنَا بِہٖ لِئَلَّا یَتَوَہَّمَ مُتَوَہِّمٌ أَنَّا قَدْ أَغْفَلْنَاہُ وَاِنَّمَا فِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ کَرَاہِیَۃُ أَبِیْ جُحَیْفَۃَ لِذٰلِکَ فَقَطْ .فَأَمَّا مَا فِیْ ذٰلِکَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ نَہْیِہِ عَنْ ثَمَنِ الدَّمِ فَہُوَ مَا یُبَاعُ بِہٖ الدَّمُ لَا غَیْرُ ذٰلِکَ .فَذَہَبَ قَوْمٌ اِلٰی کَرَاہِیَۃِ کَسْبِ الْحَجَّامِ وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِہٰذِہِ الْآثَارِ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ فَقَالُوْا : اِنَّ کَسْبَ الْحَجَّامِ کَسْبٌ ذِی دَنَسٍ فَیُکْرَہُ لِلرَّجُلِ أَنْ یُدَنِّسَ نَفْسَہٗ وَیُدِیْنَہَا بِذٰلِکَ .فَأَمَّا أَنْ یَکُوْنَ ذٰلِکَ فِیْ نَفْسِہِ حَرَامًا فَلَا .وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ
٥٨٩٣: سعید نے ہمیں مطلع کیا کہ عون بن ابی حجیفہ نے بیان کیا کہ میرے والد نے ایک سینگی لگانے والے (غلام) کو خریدا پھر اس کے سینگی لگانے والے آلات توڑ دیئے میں نے کہا ابا جی ! آپ نے یہ آلات کیوں توڑ ڈالے ؟ تو فرمانے لگے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خون کی قیمت لینے سے منع فرمایا۔ امام طحاوی (رح) کہتے ہیں : اس روایت میں حجام کی کمائی کے حرام ہونے کی کوئی دلیل نہیں ہے اس روایت کو ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ کسی کو یہ وہم نہ ہو کہ ہم اس سے بےخبر ہیں۔ بس اس روایت سے اتنی بات معلوم ہوتی ہے کہ حضرت ابو جحیفہ نے اس کو ناپسند کرتے ہوئے ایسا کیا۔ رہا یہ سوال کہ خون کی قیمت سے منع فرمایا تو اس کا اطلاق خون فروخت کرنے پر ہوتا ہے اس کے علاوہ نہیں۔ بعض لوگوں نے کہا کہ حجام کی کمائی مکروہ ہے اس کی دلیل مندرجہ بالا روایات ہیں۔ دوسروں نے کہا سینگی لگوانے کا پیشہ گندا پیشہ ہے آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنے کو اس پیشے میں ملوث کر کے اپنے کو عیب دار نہ کرے اور اس کو اختیار نہ کرے باقی بذات خود یہ حرام نہیں۔ دلیل یہ روایات ہیں۔
تخریج : مسند احمد ٤‘ ٣٠٨؍٣٠٩۔