۵۹۲۸: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ وَہْبٍ قَالَ : ثَنَا عَمِّیْ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ وَہْبٍ قَالَ : حَدَّثَنِیْ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ثُمَّ ذَکَرَ ہٰذَا الْحَدِیْثَ بِاِسْنَادِہِ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ ذٰلِکَ أَیْضًا سَوَائً .فَبَیَّنَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ مَنْ الَّذِیْ یَکُوْنُ بِاِیْوَائِ الضَّالَّۃِ ضَالًّا وَأَنَّہٗ الَّذِی لَا یُعَرِّفُہَا .فَعَادَ مَعْنٰی ہٰذَا الْحَدِیْثِ اِلَی مَعْنَیْ حَدِیْثِ الْجَارُوْدِ وَعَبْدِ اللّٰہِ بْنُ الشَّخِیرِ فِیْ ذٰلِکَ أَیْضًا .
٥٩٢٨: عبداللہ بن وہب نے عمرو بن حارث (رض) سے نقل کیا پھر اپنی اسناد کے ساتھ انھوں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بالکل اسی طرح روایت بیان کی ہے۔ اس روایت میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیان کردیا کہ وہ شخص جو گمشدہ کو عدم تشہیر کی غرض سے باندھتا ہے وہ گمراہ ہے۔ پس اس روایت کا مفہوم بھی حضرت جارود اور عبداللہ بن شخیر (رض) کی روایت کی طرف لوٹ گیا۔