۵۹۴ : حَدَّثَنَا أَبُوْ بَکْرَۃَ وَابْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَا : ثَنَا أَبُوْ عَاصِمٍ، عَنْ سُفْیَانَ الثَّوْرِیِّ، عَنْ أَبِیْ قَیْسٍ، عَنْ ہُذَیْلِ بْنِ شُرَحْبِیْلَ، عَنِ الْمُغِیْرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِہٖ .فَأَخْبَرَ أَبُوْ مُوْسٰی وَالْمُغِیْرَۃُ، عَنْ مَسْحِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلٰی نَعْلَیْہِ، کَیْفَ کَانَ مِنْہٗ .وَقَدْ رُوِیَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ فِیْ ذٰلِکَ وَجْہٌ آخَرُ .
٥٩٤: ہذیل بن شرحبیل نے مغیرہ بن شعبہ (رض) سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسی طرح کیا۔ تو حضرت ابو موسیٰ اشعری و مغیرہ بن شعبہ (رض) نے خبر دی کہ آپ کے اپنے نعلین مبارک پر مسح کرنے کی کیا صورت تھی اور ابن عمر (رض) سے ایک اور وجہ بھی مروی ہے۔
حاصل روایات :
ان دونوں روایتوں سے مسح نعلین کی ایک صورت سامنے آئی کہ اصل جو ربین پر مسح تھا ان پر زائد مسح ہوجاتا ہے۔
ابن عمر (رض) کی روایت سے ایک صورت سامنے آتی ہے جو کہ ویل للاعقاب من النار سے منسوخ شدہ ہے روایت ملاحظہ ہو۔