۵۹۶ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النُّعْمَانِ السَّقَطِیُّ قَالَ : ثَنَا الْحُمَیْدِیُّ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الْعَزِیْزِ بْنُ أَبِیْ حَازِمٍ قَالَ : حَدَّثَنِی ابْنُ الْہَادِیْ عَنْ أَبِیْ بَکْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عَمْرَۃَ، عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا أَنَّ (أُمَّ حَبِیْبَۃَ بِنْتَ جَحْشٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا، کَانَتْ تَحْتَ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ، وَأَنَّہَا اُسْتُحِیْضَتْ حَتّٰی لَا تَطْہُرَ، فَذُکِرَ شَأْنُہَا لِرَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ .فَقَالَ : لَیْسَتْ بِالْحَیْضَۃِ، وَلٰـکِنَّہَا رَکْضَۃٌ مِنَ الرَّحِمِ، لِتَنْظُرْ قَدْرَ قُرُوْئِہَا الَّتِیْ تَحِیْضُ لَہَا، فَلْتَتْرُکِ الصَّلَاۃَ، ثُمَّ لِتَنْظُرْ مَا بَعْدَ ذٰلِکَ، فَلْتَغْتَسِلْ عِنْدَ کُلِّ صَلَاۃٍ وَتُصَلِّیْ) .
٥٩٦: عمرہ حضرت عائشہ (رض) سے نقل کرتی ہیں کہ ام حبیبہ (رض) بنت جحش عبدالرحمن بن عوف کی بیوی تھیں ان کو استحاضہ آتا تھا پاکیزگی نہ ہوتی تھی عبدالرحمن (رض) نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان کی حالت ذکر کی تو آپ نے فرمایا وہ حیض نہیں بلکہ وہ رحم کی حرکت ہے وہ اپنے حیض کے دنوں کا انتظار کرے اور ان دنوں میں نماز چھوڑ دے (جب وہ دن ختم ہوں) تو بعد میں دیکھے کیا کیفیت ہے ہر نماز کے لیے غسل کرے اور نماز ادا کرے۔
تخریج : مسلم فی الحیض ٦٤‘ نسائی فی الطھارۃ باب ١٣٤‘ دارمی فی الوضوء باب ٩٤‘ مسند احمد ٦؍١٤١‘ مستدرک حاکم ١؍١٧٣‘ بیہقی سنن کبرٰی ١؍٣٤٨۔
خلاصہ الزام : طبعی طور پر عورت کو آنے والا خون حیض کہلاتا ہے اس میں نماز ‘ روزہ ‘ جماع ہر چیز منع ہے غیر طبعی خون جو ان ایام مقررہ کے علاوہ میں آئے وہ مستحاضہ ہے اس میں وطی کا جواز اور نماز روزے کا حکم ہے زمانہ نبوت میں جن عورتوں کو یہ عارضہ لاحق تھا ان کی تعداد بارہ بتلائی جاتی ہے مستحاضہ کی کئی اقسام ہیں : ! جن کو ابتدائً یہ عارضہ ہو ۔ " عادت بن جائے ۔#دم حیض سے الگ خون پہچانا جائے ۔$معلوم نہ ہو کہ کتنے دنوں حیض ہے اسی طرح استحاضہ۔ اس موقع پر ایام استحاضہ میں نماز کے لیے طہارت کا مسئلہ زیر بحث آئے گا اس میں تین فریق ہیں۔
نمبر ١: قتادہ مجاہد ‘ عکرمہ کے ہاں ہر نماز کے لیے غسل لازم ہوگا۔
نمبر ٢: ابراہیم نخعی وغیرہ کے ہاں دو نمازوں کے لیے جمع صوری کے ساتھ ایک غسل کیا جائے گا۔
نمبر ٣: جمہور ائمہ اور فقہاء سبعہ مدینہ کے ہاں ہر نماز کے لیے نیا وضو کیا جائے گا۔ فقہاء سبعہ حسن بصری ‘ ابن المسیب ‘ عروہ ‘ قاسم ‘ ابن رباح ‘ محمد بن علی ‘ سالم)