hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 5960

.

الطحاوي

5960
Al Tahawi
۵۹۵۹: مَا حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ مُصْعَبٍ الزُّہْرِیُّ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الْعَزِیْزِ بْنُ أَبِیْ حَازِمٍ عَنْ أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ عَنْ بُکَیْرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ عَنْ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ حَاطِبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عُثْمَانَ أَنَّہٗ قَالَ : نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ لُقَطَۃِ الْحَاجِّ .فَمَعْنٰی ْ ہٰذَا - عِنْدَنَا وَاللّٰہُ أَعْلَمُ - عَلَی اللُّقَطَۃِ الَّتِیْ لَا یُنْشَدُ بِہَا وَلَا یُعْرَفُ بِہَا لِأَنَّ لُقَطَۃَ الْحَرَمِ اِنَّمَا أُبِیْحَتْ لِلْاِنْشَادِ .وَقَدْ یَکُوْنُ لِلْحَاجِّ وَغَیْرِ الْحَاجِّ کَانَتْ لُقَطَۃُ الْحَاجِّ فِیْ غَیْرِ الْحَرَمِ أَوْ لَا أَنْ یَکُوْنَ کَذٰلِکَ أَیْضًا وَاللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ أَعْلَمُ .
٥٩٥٩: عبدالعزیز بن ابو حازم نے عن یحییٰ بن عبدالرحمن بن طالب نے حضرت عبدالرحمن بن عثمان (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لقطہ حجاج کو اٹھانے سے منع فرمایا۔ ہمارے نزدیک اس روایت کا مفہوم یہ ہے (واللہ اعلم) کہ وہ لقطہ جس کی نہ تشہیر کی جائے اور نہ اعلان کیا جائے کیونکہ لقطہ حرم کا تشہیر کے لیے اٹھانا اس کی اباحت تو ثابت شدہ ہے اور وہ لقطہ حجاج و غیر حجاج ہر کسی کا ہوسکتا ہے تو غیر حرم میں حاجی کا لقطہ اٹھانا زیادہ بہتر ہے تو یہاں بھی اس کا یہی حکم ہے۔ واللہ اعلم۔
تخریج : مسلم فی اللقطہ باب ١١‘ ابو داؤد فی اللقطہ باب ١٩‘ دارمی فی البیوع باب ٦٠‘ مسند احمد ٣؍٤٩٩۔
حاصل روایت : ہمارے نزدیک اس روایت کا مفہوم یہ ہے (واللہ اعلم) کہ وہ لقطہ جس کی نہ تشہیر کی جائے اور نہ اعلان کیا جائے کیونکہ لقطہ حرم کا تشہیر کے لیے اٹھانا اس کی اباحیت تو ثابت شدہ ہے۔
اور وہ لقطہ حجاج و غیر حجاج ہر کسی کا ہوسکتا ہے تو غیر حرم میں حاجی کا لقطہ اٹھانا زیادہ بہتر ہے تو یہاں بھی اس کا یہی حکم ہے۔ واللہ اعلم۔
اللغات : حرق۔ جلن۔ جرف۔ سیلابی کنارہ۔ وکائ۔ بندھن۔ عفاص۔ سربند ‘ ڈاٹ۔ سباع۔ درندہ۔ منشد۔ گمشدہ کا متلاشی۔ الضوال۔ گمشدہ۔
اس باب میں لقطہ ‘ گمشدہ کا حکم حرم و غیر حرم میں ایک ہی ہے کہ وہ آدمی اٹھائے جو ان کا اعلان کرنا چاہتا ہو اگر ایسی چیز ہو جس کے ضیاع کا خطرہ ہو تو اس کو اٹھالے اور اعلان کرے اگر مالک مل جائے تو بہتر ورنہ خود ضرورت مند ہو تو استعمال کرے ورنہ بیت المال میں جمع کرا دے۔