hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 598

.

الطحاوي

598
Al Tahawi
۵۹۸ : حَدَّثَنَا الرَّبِیْعُ بْنُ سُلَیْمَانَ الْجِیْزِیُّ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ یُوْسُفَ قَالَ : ثَنَا الْہَیْثَمُ بْنُ حُمَیْدٍ قَالَ : أَخْبَرَنِی النُّعْمَانُ، وَالْأَوْزَاعِیُّ، وَأَبُوْ مَعْبَدٍ حَفْصُ بْنُ غَیْلَانَ، عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ : أَخْبَرَنِیْ عُرْوَۃُ، وَعَمْرَۃُ، عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا قَالَتْ : (اُسْتُحِیْضَتْ أُمُّ حَبِیْبَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا بِنْتُ جَحْشٍ، فَاسْتَفْتَتْ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ .فَقَالَ لَہَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: إِنَّ ھٰذِہِ لَیْسَتْ بِحَیْضَۃٍ، وَلَکِنَّہٗ عِرْقٌ فَتَقَہٗ اِبْلِیْسُ، فَإِذَا أَدْبَرَتِ الْحَیْضَۃُ، فَاغْتَسِلِیْ وَصَلِّیْ، وَإِذَا أَقْبَلَتْ، فَاتْرُکِیْ لَہَا الصَّلَاۃَ .قَالَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا : فَکَانَتْ أُمُّ حَبِیْبَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا تَغْتَسِلُ لِکُلِّ صَلَاۃٍ، وَکَانَتْ تَغْتَسِلُ أَحْیَانًا فِیْ مِرْکَنٍ، فِیْ حُجْرَۃِ أُخْتِہَا زَیْنَبَ، وَہِیَ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، حَتّٰی إِنَّ حُمْرَۃَ الدَّمِ لِتَعْلُوَ الْمَائَ، فَتُصَلِّیْ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَمَا مَنَعَہَا ذٰلِکَ مِنَ الصَّلَاۃِ) .
٥٩٨: عروہ وعمرہ کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ (رض) نے روایت کی کہ ام حبیبہ بنت جحش (رض) کو استحاضہ پیش آیا تو اس نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دریافت کیا آپ نے فرمایا یہ حیض نہیں بلکہ یہ رگ کا خون ہے جس کو ابلیس نے چیر دیا ہے جب ایام حیض گزر جائیں تو غسل کرو اور نماز ادا کرو اور پھر ایام حیض آجائیں تو نماز کو ترک کر دو ۔ حضرت عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ وہ ہر نماز کے لیے غسل کرتی تھیں اور کبھی کبھی ٹب میں غسل کرتیں اور اپنی بہن زینب کے حجرہ میں غسل کرتیں بعض اوقات خون کی سرخی پانی پر بلند بھی ہوجاتی جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو علم بھی ہوتا مگر آپ اس کو نماز سے نہ روکتے (گویا یہ آپ کا نہ روکنا خود جواز کا ثبوت ہوا)
تخریج : بخاری فی الحیض باب ١٩ ٢٨٨‘ مسلم فی الحیض ٦٢‘ ابو داؤد فی الطھارۃ باب ١٠٨‘ نمبر ٢٨٢‘ باب ١٠٩‘ نمبر ٢٨٥‘ ترمذی فی الطھارۃ باب ٩٣‘ نمبر ١٢٩‘ نسائی فی الطھارۃ باب ١٣٤‘ ابن ماجہ فی الطھارۃ باب ١١٥‘ ١١٦‘ مالک فی الطھارۃ نمبر ١٠٤‘ مسند احمد ٦؍٨٣‘ ١٢٩‘۔