۵۹۸۰: حَدَّثَنَا أَبُوْبَکْرَۃَ قَالَ: ثَنَا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الزُّبَیْرِ قَالَ : ثَنَا اِسْرَائِیْلُ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ عُمَیْرٍ قَالَ : ثَنَا جَابِرُ بْنُ سَمُرَۃَ قَالَ : خَطَبَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ بِالْجَابِیَۃِ فَقَالَ قَامَ فِیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَقَامِی فِیْکُمُ الْیَوْمَ فَقَالَ أَحْسِنُوْا اِلٰی أَصْحَابِیْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَہُمْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَہُمْ ثُمَّ یَفْشُوَا الْکَذِبُ حَتّٰی یَشْہَدَ الرَّجُلُ عَلَی الشَّہَادَۃِ لَا یُسْأَلُہَا وَحَتّٰی یَحْلِفَ الرَّجُلُ عَلَی الْیَمِیْنِ لَا یُسْتَحْلَفُ
٥٩٨٠: عبدالملک بن عمیر کہتے ہیں کہ حضرت جابر بن سمرہ (رض) سے مروی ہے کہ مقام جابیہ میں حضرت عمر (رض) نے ہمیں خطبہ دیا آپ نے ذکر کیا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے درمیان کھڑے ہوئے جس طرح آج میں تمہارے درمیان کھڑا ہوں اور آپ نے ارشاد فرمایا میرے صحابہ کرام سے حسن سلوک کرو پھر ان لوگوں سے جو ان کے قریب ہیں (تابعین) پھر جو ان سے قریب ہیں (تبع تابعین) پھر جھوٹ پھیل جائے گا۔ یہاں تک کہ آدمی گواہی دے گا حالانکہ اس سے گواہی طلب نہیں کی جائے گی اور قسم بھی طلب کے بغیر کھائے گا۔
تخریج : ترمذی فی الفتن باب ٧‘ والشہادات باب ٤‘ ابن ماجہ فی الاحکام باب ٢٧‘ مسند احمد ١؍١٨۔
اگر کسی شخص کے پاس کسی معاملے کی گواہی موجود ہو تو وہ مطالبہ کے بعد دے یا پہلے دے اس سلسلہ میں دو فریق ہیں۔
نمبر 1: جو شخص مطالبہ سے پہلے گواہی دے وہ قابل مذمت ہے۔
نمبر 2: مطالبہ سے قبل گواہی دینے والا قابل مدح و ستائش ہی نہیں بلکہ ماجور ہے۔