۶۰۰۲: حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : أَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَنَّ مَالِکًا حَدَّثَہٗ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیْھَاعَنْ زَیْنَبَ عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ قَالَتْ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنَّکُمْ تَخْتَصِمُوْنَ اِلَیَّ وَاِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَلَعَلَّ بَعْضَکُمْ أَنْ یَکُوْنَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِہِ فَأَقْضِیَ لَہٗ عَلٰی نَحْوِ مَا أَسْمَعُ مِنْہُ فَمَنْ قَضٰیْتُ لَہٗ مِنْ حَقِّ أَخِیْہِ شَیْئًا فَاِنَّمَا أَقْطَعُ لَہٗ قِطْعَۃً مِنَ النَّارِ فَلَا یَأْخُذْہُ
٦٠٠٢: زینب نے امّ سلمہ (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم میرے پاس جھگڑا لاتے ہو اور بلاشبہ میں انسان ہوں ممکن ہے کہ تم میں سے ایک دوسرے سے اپنی دلیل بیان کرنے میں زیادہ عمدہ ہو تو میں جو کچھ اس سے سنوں اس کے مطابق اس کے حق میں فیصلہ کر دوں۔ فلہذا جس کے لیے میں اس کے مسلمان بھائی کے حق کا فیصلہ کروں گویا میں اس کے لیے آگ کا ایک ٹکڑا کاٹ رہا ہوں پس وہ اسے نہ لے۔
تخریج : بخاری فی الشہادات باب ٢٧‘ والاحکام باب ٢٠‘ والحیل باب ١٠‘ مسلم فی الاقضیہ ٤‘ ابو داؤد فی الاقضیہ باب ٧‘ ترمذی فی الاحکام باب ١١‘ و نسائی فی القضاۃ باب ١٣؍٣٣‘ ابن ماجہ فی الاحکام باب ٥‘ مالک فی الاقضیہ ١‘ مسند احمد ٦‘ ٢٠٣؍٢٩٠‘ ٣٠٨؍٣٢٠۔