hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 6006

.

الطحاوي

6006
Al Tahawi
۶۰۰۴: حَدَّثَنَا رَبِیْعٌ الْمُؤَذِّنُ قَالَ : ثَنَا أَسَدٌ قَالَ : ثَنَا وَکِیْعٌ عَنْ أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ سَمِعَہُ مِنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ نَافِعٍ مَوْلَی أُمِّ سَلَمَۃَ عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ قَالَتْ : جَائَ رَجُلَانِ مِنَ الْأَنْصَارِ یَخْتَصِمَانِ اِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ مَوَارِیْثَ بَیْنَہُمَا قَدْ دُرِسَتْ لَیْسَتْ بَیْنَہُمَا بَیِّنَۃٌ .فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَاِنَّہٗ یَأْتِی الْخَصْمُ وَلَعَلَّ بَعْضَکُمْ أَنْ یَکُوْنَ أَبْلَغَ مِنْ بَعْضٍ فَأَقْضِیَ لَہٗ بِذٰلِکَ وَأَحْسِبُ أَنَّہٗ صَادِقٌ فَمَنْ قَضٰیْتُ لَہٗ بِحَقِّ مُسْلِمٍ فَاِنَّمَا ہِیَ قِطْعَۃٌ مِنَ النَّارِ فَلْیَأْخُذْہَا أَوْ لِیَدَعْہَا .فَبَکَی الرَّجُلَانِ وَقَالَ کُلُّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا حَقِّی لِأَخِی .فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَمَّا اِذْ فَعَلْتُمَا ہٰذَا فَاذْہَبَا فَاقْتَسِمَا وَتَوَخَّیَا الْحَقَّ ثُمَّ اسْتَہِمَا ثُمَّ لِیُحْلِلْ کُلُّ وَاحِدٍ مِنْکُمَا صَاحِبَہُ .
٦٠٠٤: عبداللہ بن نافع مولیٰ امّ سلمہ (رح) نے امّ سلمہ (رض) روایت کی ہے کہ دو انصاری آدمی جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں وراثت کا ایک جھگڑا لائے جو کہ مٹ چکی تھی اور ان کے دونوں کے پاس کوئی دلیل بھی نہ تھی۔ تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں ایک انسان ہوں میرے ہاں جھگڑے والے آتے ہیں اور ممکن ہے کہ ان میں سے ایک دوسرے سے زیادہ بلیغ بات کرنے والا ہو اور میں اس کی بات پر فیصلہ کر دوں اور اس کو سچا گمان کروں۔ تو جس کے لیے میں کسی مسلمان کے حق کا فیصلہ کروں وہ اس کے لیے آگ کا ٹکڑا ہے۔ پس وہ اس کو لے لے (اگر اس کا حق بنتا ہے) یا اس کو چھوڑ دے۔ پس (اس بات کو سن کر) دونوں آدمی رو پڑے اور ہر ایک پکار اٹھا میرا حق میرے بھائی کا ہے۔ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب تم نے ایسا کردیا ہے تو اب جاؤ اور اس کو آپس میں بانٹ لو۔ حق کے متعلق غور کرو اور پھر قرعہ اندازی کر کے اس کے بعد ہر ایک دوسرے کے لیے اسے حلال قرار دے دے۔
تخریج : بخاری فی الاحکام باب ٢٩؍٣١‘ مسلم فی الاقضیہ ٥۔