۶۰۲۳: حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مَعْبَدٍ قَالَ : ثَنَا یُوْنُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ : ثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَارِفِ بْنِ شَبِیْبِ بْنِ عُرْوَۃَ أَبُو عُرْوَۃَ عَنْ شَبِیْبِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ سُلَیْمِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ قَالَ : خَطَبَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ فَذَکَرَ مِثْلَہٗ۔قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَجَعَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حُرْمَۃَ الْأَمْوَالِ کَحُرْمَۃِ الْأَبْدَانِ .فَکَمَا لَا یَحِلُّ أَبْدَانُ الْأَبْنَائِ لِلْآبَائِ اِلَّا بِالْحُقُوْقِ الْوَاجِبَۃِ فَکَذٰلِکَ لَا یَحِلُّ لَہُمْ أَمْوَالُہُمْ اِلَّا بِالْحُقُوْقِ الْوَاجِبَۃِ .فَاِنْ قَالَ قَائِلٌ : نُرِیْدُ أَنْ یُوْجَدَ مَا ذَکَرْتُ فِی الْأَبِ مَنْصُوْصًا عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ .قُلْتُ :
٦٠٢٣: شبیب بن عروہ نے سلیم بن عمرو بن احوص (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حجۃ الوداع کے دن خطبہ ارشاد فرمایا پھر اسی طرح روایت نقل کی ہے۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مال کی حرمت کو بدن کی حرمت کی طرح قرار دیا پس جس طرح بیٹوں کے ابدان اباء کے لیے حلال نہیں مگر حقوق واجبہ کے ذریعہ بالکل اسی طرح اولاد کے اموال بھی ان کے لیے حقوق واجبہ کے بغیر حلال نہیں۔ اگر کوئی معترض کہے کہ آپ نے جو بات ذکر فرمائی ہے یہ منصوص چاہیے (فقط قیاس بلادلیل تو معتبر نہیں)
امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں : کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مال کی حرمت کو بدن کی حرمت کی طرح قرار دیا پس جس طرح بیٹوں کے ابدان اباء کے لیے حلال نہیں مگر حقوق واجبہ کے ذریعہ بالکل اسی طرح اولاد کے اموال بھی ان کے لیے حقوق واجبہ کے بغیر حلال نہیں۔
سوال : آپ نے جو بات ذکر فرمائی ہے یہ منصوص چاہیے (فقط قیاس بلادلیل تو معتبر نہیں)
جواب : لیجئے منصوص ملاحظہ ہو۔ فتدبر و تشکر