hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 6027

.

الطحاوي

6027
Al Tahawi
۶۰۲۵: حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ عُرْوَۃَ ، عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا ، قَالَتْ : دَخَلَ مُجَزِّزٌ الْمُدْلِجِیُّ ، عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَرَأَی أُسَامَۃَ وَزَیْدًا ، وَعَلَیْہِمَا قَطِیْفَۃٌ قَدْ غَطَّیَا رُئُ وْسَہُمَا ، فَقَالَ : اِنَّ ہٰذِہِ الْأَقْدَامَ ، بَعْضُہَا مِنْ بَعْضٍ ، فَدَخَلَ عَلَیَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَسْرُوْرًا .
٦٠٢٥: عروہ نے حضرت عائشہ (رض) سے روایت کی ہے کہ مجزز مدلجی جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں داخل ہوئے چنانچہ اس سے اسامہ اور زید (رض) کو ایک دھاری دار چادر میں لپٹے دیکھا ان کے سر ڈھنپے ہوئے تھے تو وہ کہنے لگا یہ پاؤں ایک دوسرے سے ہیں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے ہاں بڑے خوش خوش داخل ہوئے۔
تخریج : بخاری فی الفرائض باب ٣١‘ مسلم فی الرضاع ٣٩‘ ابو داؤد فی الطلاق باب ٣١‘ نسائی فی الطلاق باب ٨١‘ ابن ماجہ فی الاحکام باب ٢١‘ مسند احمد ٦؍٣٨۔
قیافہ شناس کی بات کے مطابق نسب کا فیصلہ ہوسکتا ہے اس قول کو بعض علماء نے اختیار کیا ہے۔
فریق ثانی کا مؤقف : یہ ہے قیافہ شناس کے قول کا نہ نسب میں اعتبار ہے اور نہ دیگر معاملات میں۔ اس قول کو ائمہ ثلاثہ احناف نے اختیار کیا ہے۔