۶۰۲۷: حَدَّثَنَا ابْنُ دَاوٗدَ قَالَ : أَخْبَرَنِیْ عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ ، أَنَّ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا ، أَخْبَرَتْہُ أَنَّ النِّکَاحَ کَانَ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ عَلٰی أَرْبَعَۃِ أَنْحَائٍ : .فَمِنْہُ أَنْ یَجْتَمِعَ الرِّجَالُ الْعَدَدُ ، عَلَی الْمَرْأَۃِ ، لَا تَمْتَنِعُ مِمَّنْ جَائَ ہَا ، وَہُنَّ الْبَغَایَا ، وَکُنَّ یَنْصِبْنَ عَلٰی أَبْوَابِہِنَّ رَایَاتٍ فَیَطَؤُہَا کُلُّ مَنْ دَخَلَ عَلَیْہَا ، فَاِذَا حَمَلَتْ وَوَضَعَتْ حَمْلَہَا ، جُمِعَ لَہُمُ الْقَافَۃُ ، فَأَیُّہُمْ أَلْحَقُوْھُ بِہٖ ، کَانَ أَبَاہٗ، وَدُعِیَ ابْنَہٗ، لَا یَمْتَنِعُ مِنْ ذٰلِکَ .فَلَمَّا بَعَثَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ مُحَمَّدًا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِالْحَقِّ ، ہَدَمَ ذٰلِکَ النِّکَاحَ الَّذِیْ کَانَ یَکُوْنُ فِیْہِ ذٰلِکَ الْحُکْمُ ، وَأَقَرَّ النَّاسَ عَلَی النِّکَاحِ الَّذِی لَا یَحْتَاجُ فِیْہِ اِلَی قَوْلِ الْقَافَۃِ ، وَجَعَلَ الْوَلَدَ لِأَبِیْہَ الَّذِیْ یَدَّعِیْہٖ، فَیَثْبُتُ نَسَبُہٗ بِذٰلِکَ ، وَنُسِخَ الْحُکْمُ الْمُتَقَدِّمُ ، الَّذِیْ کَانَ یُحْکَمُ فِیْہِ بِقَوْلِ الْقَافَۃِ .وَقَدْ کَانَ أَوْلَادُ الْبَغَایَا ، الَّذِیْنَ وُلِدُوْا فِی الْجَاہِلِیَّۃِ ، مَنْ ادَّعَی أَحَدًا مِنْہُمْ فِی الْاِسْلَامِ ، لَحِقَ بِہٖ .
٦٠٢٧: عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ (رض) سے نقل کیا ہے کہ زمانہ جاہلیت میں نکاح چار قسم کا ہوتا تھا۔
نمبر 1: کئی آدمی ایک عورت کے پاس جاتے وہ کسی کو بھی اپنے سے منع نہ کرتی یہ زانیہ عورتوں کا طریق کار تھا۔ وہ اپنے دروازوں پر بطور نشان جھنڈے لگاتی تھیں ہر جانے والا ان سے وطی کرتا جب کسی سے حمل ٹھہر جاتا پھر وہ بچہ جنتی تو قیافہ شناس جمع ہو کر اس بچے کو کسی کے ساتھ ملا دیتے وہی اس کا باپ شمار ہوتا تھا اور وہ اس کا بچہ کہلاتا اس سے نسبت سے منع نہ کیا جاتا تھا جب اللہ تعالیٰ نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حق کے ساتھ بھیجا تو آپ نے اس قسم نکاح کو ختم کردیا آپ نے اس نکاح کو برقرار رکھا جس میں کسی قیافہ شناس کی کوئی حاجت نہ تھی۔ بچہ اس کے والد کے لیے قرار دیا جاتا جو اس کا مدعی ہوتا تھا اور اسی سے اس کا نسب ثابت ہوتا اور وہ پہلا حکم جس میں قیافہ شناس کے ول سے فیصلہ ہوتا آپ نے اس کو منسوخ کردیا اور ان زانیہ عورتوں کی جو اولاد دور جاہلیت میں پیدا ہوئی اسلام میں جس نے اس کا دعویٰ کیا اس کے ساتھ اس کو ملا دیا گیا۔