hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 6031

.

الطحاوي

6031
Al Tahawi
۶۰۲۹: وَحَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : أَنَا أَنَسٌ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیْدٍ قَالَ : مَالِکٌ فِیْ حَدِیْثِہٖ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ ، وَقَالَ أَنَسٌ : أَخْبَرَنِیْ سُلَیْمَانُ بْنُ یَسَارٍ ، أَنَّ عُمَرَ کَانَ یُنِیطُ أَہْلَ الْجَاہِلِیَّۃِ بِہِنَّ مَنْ ادَّعَی بِہِمْ فِی الْاِسْلَامِ .فَدَلَّ ذٰلِکَ أَنَّہُمْ لَمْ یَکُوْنُوْا یُلْحَقُوْنَ بِہِمْ بِقَوْلِ الْقَافَۃِ ، فَیَکُوْنُ قَوْلُہُمْ کَالْبَیِّنَۃِ ، الَّتِیْ تَشْہَدُ عَلٰی ذٰلِکَ .فَلَوْ کَانَ قَوْلُہُمْ مُسْتَعْمَلًا فِی الْاِسْلَامِ ، کَمَا کَانَ مُسْتَعْمَلًا فِی الْجَاہِلِیَّۃِ ، اِذًا لَمَا قَالَتْ عَائِشَۃُ : اِنَّ ذٰلِکَ مِمَّا ہُدِمَ ، اِذَا کَانَ قَدْ یَجِبُ بِہٖ عُلِمَ أَنَّ الصَّبِیَّ مِمَّنْ وَطِئَ أَمَۃً مِنْ الرِّجَالِ فَفِیْ نَسْخِ ذٰلِکَ دَلِیْلٌ أَنَّ قَوْلَہُمْ : لَمْ یَجِبْ بِہٖ حُکْمٌ بِثُبُوْتِ النَّسَبِ .وَاحْتَجَّ أَہْلُ الْمَقَالَۃِ الْأُوْلٰی بِقَوْلِہِمْ أَیْضًا بِمَا
٦٠٢٩: سلیمان بن یسار نے بتلایا کہ حضرت عمر (رض) اہل جاہلیت کو ان لوگوں کے ساتھ ملا دیتے تھے جو اسلام کے زمانہ میں ان کا دعویدار بنتا۔ تو اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ وہ قیافہ شناس لوگوں کے قول سے (ان دعویٰ کرنے والوں) کے ساتھ نہیں ملاتے تھے کہ ان کے قول کو گواہی کہیں جس سے وہ گواہی دیتے اگر زمانہ جاہلیت کی طرح اسلام میں بھی یہ طریق مستعمل ہوتا تو حضرت عائشہ (رض) یہ نہ فرماتیں کہ یہ طریقہ اسلام میں ختم ہوگیا بلکہ اس سے یہ بات معلوم کرنا ضروری تھا کہ یہ بچہ وطی کرنے والے مردوں میں سے کس کا ہے۔ تو اس کے منسوخ ہونے سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ ان قیافہ شناسوں کے قول سے ثبوت نسب کا فیصلہ واجب نہیں۔
فریق اول کی ایک اول دلیل : سلیمان بن یسار کی یہ روایت ہے۔