hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 6034

.

الطحاوي

6034
Al Tahawi
۶۰۳۲: حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ : ثَنَا ابْنُ وَہْبٍ قَالَ : أَخْبَرَنِی ابْنُ أَبِی الزِّنَادِ ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ ، عَنْ أَبِیْہِ‘ عَنْ یَحْیَی بْنِ حَاطِبٍ ، عَنْ أَبِیْہَ قَالَ : أَتَیْ رَجُلَانِ اِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، یَخْتَصِمَانِ فِیْ غُلَامٍ مِنْ وِلَادَۃِ الْجَاہِلِیَّۃِ ، یَقُوْلُ ہٰذَا : ہُوَ ابْنِیْ، وَیَقُوْلُ ہٰذَا : ہُوَ ابْنِی .فَدَعَا لَہُمَا عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَائِفًا مِنْ بَنِی الْمُصْطَلِقِ ، فَسَأَلَہٗ عَنِ الْغُلَامِ ، فَنَظَرَ اِلَیْہِ الْمُصْطَلِقِیُّ ، ثُمَّ قَالَ لِعُمَرَ : وَالَّذِی أَکْرَمَکَ، اِنَّہُمَا قَدْ اشْتَرَکَا فِیْہِ جَمِیْعًا .فَقَامَ اِلَیْہِ عُمَرُ فَضَرَبَہٗ بِالدِّرَّۃِ حَتّٰی ضَجَعَ ثُمَّ قَالَ : وَاللّٰہِ، لَقَدْ ذَہَبَ بِک النَّظَرُ اِلَی غَیْرِ مَذْہَبٍ .ثُمَّ دَعَا أُمَّ الْغُلَامِ فَسَأَلَہَا ، فَقَالَتْ : اِنَّ ہٰذَا لِأَحَدِ الرَّجُلَیْنِ ، قَدْ کَانَ غَلَبَ عَلَیَّ النَّاسُ ، حَتّٰی وَلَدْتُ لَہٗ أَوْلَادًا ، ثُمَّ وَقَعَ بِیْ عَلٰی نَحْوِ مَا کَانَ یَفْعَلُ ، فَحَمَلْت ، فِیْمَا أَرَی ، فَأَصَابَنِیْ ہِرَاقَۃٌ مِنْ دَمٍ ، حَتّٰی وَقَعَ فِیْ نَفْسِی أَنْ لَا شَیْئَ فِیْ بَطْنِیْ، ثُمَّ اِنَّ ہٰذَا الْآخَرَ ، وَقَعَ بِی ، فَوَاللّٰہِ مَا أَدْرِی مِنْ أَیِّہِمَا ہُوَ ؟ .فَقَالَ عُمَرُ لِلْغُلَامِ اتَّبِعْ أَیَّہُمَا شِئْت فَاتَّبَعَ أَحَدَہُمَا .قَالَ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ حَاطِبٍ : فَکَأَنِّیْ أَنْظُرُ اِلَیْہِ مُتَّبِعًا لِأَحَدِہِمَا ، فَذَہَبَ بِہٖ .وَقَالَ عُمَرُ : قَاتَلَ اللّٰہُ أَخَا بَنِی الْمُصْطَلِقِ .قَالُوْا : فَفِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ أَنَّ عُمَرَ حَکَمَ بِالْقَافَۃِ ، فَقَدْ وَافَقَ مَا تَأَوَّلْنَا فِیْ حَدِیْثِ مُجَزِّزٍ الْمُدْلِجِی .فَکَانَ مِنَ الْحُجَّۃِ عَلَیْہِمْ لِلْآخَرِیْنَ أَنَّ فِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ ، مَا یَدُلُّ عَلَی بُطْلَانِ مَا قَالُوْا ، وَذٰلِکَ أَنَّ فِیْہٖ، أَنَّ الْقَائِفَ قَالَ ہُوَ مِنْہُمَا جَمِیْعًا .فَلَمْ یَجْعَلْہُ عُمَرُ کَذٰلِکَ ، وَقَالَ لَہٗ : وَالِ أَیَّہُمَا شِئْت عَلٰی مَا یَجِبُ فِیْ صَبِی ادَّعَاہُ رَجُلَانِ فَاِنْ أَقَرَّ أَحَدُہُمَا ، کَانَ أَبَاہٗ، فَلَمَّا رَدَّ عُمَرُ ذٰلِکَ اِلَی حُکْمِ الصَّبِیِّ الْمُدَّعِیْ اِذَا ادَّعَاہُ رَجُلَانِ ، وَلَمْ یَکُنْ بِحَضْرَۃِ الْاِمَامِ قَائِفٌ ، لَا اِلَی قَوْلِ الْقَائِفِ دَلَّ ذٰلِکَ عَلٰی أَنَّ الْقَافَۃَ لَا یَجِبُ بِقَوْلِہِمْ ثُبُوْتُ نَسَبٍ مِنْ أَحَدٍ .وَقَدْ رُوِیَ عَنْ عُمَرَ أَیْضًا مِنْ وُجُوْہٍ صِحَاحٍ ، أَنَّہٗ جَعَلَہٗ بَیْنَ الرَّجُلَیْنِ جَمِیْعًا .
٦٠٣٢: یحییٰ بن حاطب نے اپنے والد سے نقل کیا کہ دو آدمی حضرت عمر (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئے وہ زمانہ جاہلیت میں پیدا ہونے والے ایک بچے سے متعلق جھگڑ رہے تھے ایک کہتا تھا کہ یہ میرا لڑکا ہے اور دوسرا کہتا کہ یہ میرا لڑکا ہے حضرت عمر (رض) نے قبیلہ بنو مصطلق کے ایک قیافہ شناس کو بلایا اور اس بچے کے متعلق دریافت کیا۔ مصلطقی نے بچے کی طرف دیکھا پھر حضرت عمر (رض) سے عرض کیا اس ذات کی قسم جس نے آپ کو عزت سے نوازا ہے یہ دونوں اس بچے میں شریک ہیں۔ حضرت عمر (رض) اس کی طرف اٹھے اور اس کو درہ لگایا یہاں تک کہ وہ لیٹ گیا۔ پھر فرمایا اللہ کی قسم ! تجھے نظر دوسری طرف لے گئی ہے پھر بچے کی ماں کو بلایا اور اس سے دریافت فرمایا اس نے کہا یہ ان میں سے ایک مرد کا ہے یہ لوگوں پر غالب آیا اور میں نے اس کے لیے کئی بچے جنے ہیں۔ پھر وہ عادت کے مطابق مجھ سے ہم بستر ہوا میں اپنے خیال میں حاملہ ہوگئی لیکن مجھے خون آیا یہاں تک کہ مجھے گمان ہوا کہ میرے پیٹ میں کچھ بھی نہیں پھر یہ دوسرا مجھ سے ہم بستر ہوا پھر اللہ کی قسم مجھے معلوم نہیں کہ یہ ان میں سے کس کا ہے۔ حضرت عمر (رض) نے لڑکے سے فرمایا ان میں سے جس کے ساتھ چاہو جاؤ۔ وہ لڑکا ایک کے ساتھ چلا گیا حضرت عبدالرحمن بن حاطب کہتے ہیں کہ گویا میں اب بھی دیکھ رہا ہوں کہ وہ ان میں سے ایک کے پیچھے پیچھے جا رہا ہے اور وہ اسے لے گیا۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : ” قاتل اللہ اخا بنی مصطلق “ (یہ کلمہ مدح و مذمت دونوں کے لیے ہوسکتا ہے) ۔