۶۰۴۰: وَحَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ شُعَیْبٍ ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ زِیَادٍ ، قَالُوْا : ثَنَا شُعْبَۃُ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِیْرِ بْنِ نَہِیْکٍ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَہٗ۔قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ اِلٰی أَنَّ الرَّجُلَ اِذَا اشْتَرٰی عَبْدًا بِثَمَنٍ ، وَقَبَضَ الْعَبْدَ وَلَمْ یَدْفَعْ ثَمَنَہٗ، فَأَفْلَسَ الْمُشْتَرِی وَعَلَیْہِ دَیْنٌ ، وَالْعَبْدُ قَائِمٌ فِیْ یَدِہِ بِعَیْنِہٖ۔ أَنَّ بَائِعَہُ أَحَقُّ بِہٖ مِنْ غَیْرِہِ مِنْ غُرَمَائِ الْمُشْتَرِیَ وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِہٰذَا الْحَدِیْثِ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ فَقَالُوْا : بَلْ بَائِعُ الْعَبْدِ ، وَسَائِرُ الْغُرَمَائِ فِیْہِ سَوَائٌ ، لِأَنَّ مِلْکَہُ قَدْ زَالَ عَنِ الْعَبْدِ ، وَخَرَجَ مِنْ ضَمَانِہٖ، فَاِنَّمَا ہُوَ فِیْ مُطَالَبَۃِ غَرِیْمٍ مِنْ غُرَمَائِ الْمَطْلُوْبِ ، یُطَالِبُہٗ بِدَیْنٍ فِی ذِمَّتِہٖ، لَا وَثِیْقَۃٍ فِیْ یَدَیْہٖ، فَہُوَ وَہْمٌ فِیْ جَمِیْعِ مَالِہِمْ سَوَائٌ .وَکَانَ مِنْ حُجَّتِہِمْ عَلٰی أَہْلِ الْمَقَالَۃِ الْأُوْلٰی فِیْ فَسَادِ مَا ذَہَبُوْا اِلَیْہٖ، وَاحْتَجُّوْا لِقَوْلِہِمْ مِنْ حَدِیْثِ أَبِی ہُرَیْرَۃَ الَّذِیْ ذٰکَرْنَا ، أَنَّ الَّذِیْ فِیْ ذٰلِکَ الْحَدِیْثِ فَأَصَابَ رَجُلٌ مَالَہٗ بِعَیْنِہِ وَاِنَّمَا مَالُہُ بِعَیْنِہٖ، یَقَعُ عَلَی الْمَغْصُوْبِ ، وَالْعَوَارِیِّ وَالْوَدَائِعِ ، وَمَا أَشْبَہَ ذٰلِکَ ، فَذٰلِکَ مَالُہُ بِعَیْنِہٖ، فَہُوَ أَحَقُّ بِہٖ مِنْ سَائِرِ الْغُرَمَائِ .وَفِیْ ذٰلِکَ جَائَ ہٰذَا الْحَدِیْثُ ، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ .وَاِنَّمَا یَکُوْنُ ہٰذَا الْحَدِیْثُ حُجَّۃً لِأَہْلِ الْمَقَالَۃِ الْأُوْلٰی ، لَوْ کَانَ فَأَصَابَ رَجُلٌ غَیْرَ مَالِہِ قَدْ کَانَ لَہٗ، فَبَاعَہُ مِنْ الَّذِی وَجَدَہُ فِیْ یَدِہٖ، وَلَمْ یَقْبِضْ مِنْہُ ثَمَنَہٗ، فَہُوَ أَحَقُّ بِہٖ مِنْ سَائِرِ الْغُرَمَائِ .وَہٰذَا الَّذِیْ یَکُوْنُ حُجَّۃً لَہُمْ ، لَوْ کَانَ لَفْظُ الْحَدِیْثِ کَذٰلِکَ .فَأَمَّا اِذَا کَانَ عَلٰی مَا رَوَیْنَا فِی الْحَدِیْثِ فَلَا حُجَّۃَ لَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ ، وَہُوَ عَلَی الْوَدَائِعِ وَالْمَغْصُوْبِ ، وَالْعَوَارِیِّ وَالرُّہُوْنِ أَمْوَالِ الطَّالِبِیْنَ فِیْ وَقْتِ الْمُطَالَبَۃِ بِہَا ، وَذٰلِکَ کَمَا جَائَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ حَدِیْثِ سَمُرَۃَ .
٦٠٤٠: بشیر بن نھیک نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے انھوں نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح روایت بیان کی ہے۔ امام طحاوی (رح) کہتے ہیں : ایک فریق علماء کا خیال یہ ہے کہ جب کوئی غلام خریدے اور اس پر قبضہ کرلے لیکن ابھی تک قیمت ادا نہ کرنے پایا تھا کہ مشتری مفلس ہوگیا اور اس پر قرض ہوگیا جبکہ غلام اسی طرح اس کے قبضہ میں موجود تھا تو فروخت کرنے والا دوسرے قرض خواہوں سے اس غلام کا زیادہ حقدار ہے۔ ان حضرات کا استدلال مندرجہ بالا روایات سے ہے۔ دوسروں نے کہا دوسرا فریق کہتا ہے کہ فروخت کرنے والا اور دوسرے قرض خواہ اس غلام کے سلسلے میں برابر حق رکھتے ہیں کیونکہ غلام سے اس کی ملک زائل ہوچکی اور وہ اس کی ضمان سے نکل چکا فلہذا فروخت کرنے والا مطالبہ کے وقت مطلوبہ کے قرض خواہوں میں سے ایک ہے وہ اپنے قرض کا مطالبہ کررہا ہے جو اس شخص کے ذمہ ہے اور اس نے اس کے پاس کوئی چیز بطور رہن بھی نہیں رکھی پس وہ اور باقی قرض خواہ اس کے تمام مال میں برابر کے حقدار ہیں۔ فریق اول کے قول کے فاسد ہونے کی دلیل یہ ہے کہ اس روایت کے الفاظ کہ آدمی نے اپنے مال کو بعینہٖ پایا اور اس کا مال اسی طرح موجود ہے تو اس سے غصب کیا ہوا مال اور ادھار لیا ہوا مال اور امانات مراد ہیں اور یہ بعینہٖ اس کا مال ہے اور وہ دوسرے قرض خواہوں کی بنسبت اس کا زیادہ حقدار ہے اور یہ روایت اسی سلسلہ میں وارد ہوئی ہے فریق اول کے لیے دلیل اس وقت بنتی جب یہ الفاظ ہوتے کہ اس شخص نے اپنے مال کو اس طرح پایا جو اس کا تھا پھر اس نے اسے اس شخص پر فروخت کیا جس کے پاس اسے پایا اور اس نے ابھی تک اس کی قیمت پر قبضہ نہیں کیا تو وہ باقی قرض خواہوں کی بنسبت اس کا زیادہ حقدار ہے۔ تو اگر روایت اس طرح ہوتی تو ان کے لیے دلیل بن جاتی۔ مگر جس طرح ہم نے روایت کی ہے تو وہ ان کی دلیل نہیں بنتی کیونکہ روایت کا تعلق مغصوبات ‘ ادھار پر حاصل کردہ اشیاء اور مرہونہ اشیاء سے متعلق ہے اس لیے کہ وہ مطالبہ کرنے والے کا اپنا مال ہے اور یہ اس طرح ہے جیسا کہ روایت سمرہ بن جندب (رض) میں وارد ہے۔