۶۰۴۲: فَذَکَرُوْا مَا حَدَّثَنَا یُوْنُسُ ، قَالَ : أَنَا ابْنُ وَہْبٍ قَالَ : أَخْبَرَنِیْ یُوْنُسُ بْنُ یَزِیْدَ ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ قَالَ : أَخْبَرَنِیْ أَبُوْبَکْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَضٰی بِالسِّلْعَۃِ ، یَبْتَاعُہَا الرَّجُلُ ، فَیُفْلِسُ وَہِیَ عِنْدَہُ بِعَیْنِہَا ، لَمْ یَقْضِ صَاحِبُہَا مِنْ ثَمَنِہَا شَیْئًا ، فَہُوَ أُسْوَۃُ الْغُرَمَائِ .قَالَ أَبُوْبَکْرٍ : فَقَضٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہٗ مَنْ تُوُفِّیَ وَعِنْدَہُ سِلْعَۃُ رَجُلٍ بِعَیْنِہَا ، وَلَمْ یَقْبِضْ مِنْ ثَمَنِہَا شَیْئًا ، فَصَاحِبُ السِّلْعَۃِ أُسْوَۃُ الْغُرَمَائِ .
٦٠٤٢: زہری نے روایت کیا کہ مجھے حضرت ابوبکر بن عبدالرحمن نے بتلایا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک سامان کا فیصلہ فرمایا جس کو ایک آدمی نے خریدا پھر وہ خود مفلس ہوگیا اور وہ سامان بعینہٖ اس کے پاس موجود تھا اور اس نے اپنے فروخت کرنے والے کو قیمت کا کوئی حصہ نہ دیا تھا تو آپ نے فرمایا وہ آدمی قرض خواہوں کے ساتھ برابر کا حق دار ہے۔ حضرت ابوبکر (رض) کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ فیصلہ فرمایا کہ جو آدمی اس حالت میں مرجائے کہ اس کے پاس بائع کا سامان بعینہٖ موجود تھا اور بائع نے اس سے اپنی قیمت کا ایک ذرہ بھی وصول نہیں کیا تھا تو یہ سامان والا دوسرے قرض خواہوں کے ساتھ برابر کا حق دار ہے۔