۶۰۴۹: حَدَّثَنَا الرَّبِیْعُ بْنُ سُلَیْمَانَ الْجِیزِیُّ ، قَالَ : ثَنَا سَعِیْدُ بْنُ کَثِیْرِ بْنِ عُفَیْرٍ ، قَالَ : ثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ حَرْمَلَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ نِیَارٍ ، عَنْ عُرْوَۃَ ، عَنْ عَائِشَۃَ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، بِنَحْوِہِ وَزَادَ فِیْ آخِرِہِ فَلَیْسُوْا بِأَعْرَابٍ فَأَخْبَرَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّ مَنْ کَانَ مِنْ أَہْلِ الْبَادِیَۃِ : یُجِیْبُ اِذَا دُعِیَ ، فَہُوَ کَأَہْلِ الْحَضَرِ وَأَنَّ الْأَعْرَابَ الْمُتَقَوِّمِیْنَ ، الَّذِیْنَ لَا تُقْبَلُ ہَدَایَاہُمْ ، بِخِلَافِ ہٰؤُلَائِ ، وَہُمْ الَّذِیْنَ لَا یُجِیْبُوْنَ اِذَا دُعُوْا .فَمَنْ کَانَ کَذٰلِکَ ، لَمْ تُقْبَلْ شَہَادَتُہُمْ ، وَہُمْ الَّذِیْنَ عَنَاہُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ حَدِیْثِ أَبِی ہُرَیْرَۃَ الَّذِیْ ذٰکَرْنَا ، فِیْمَا نَرَی ، وَاللّٰہُ أَعْلَمُ.
٦٠٤٩: عروہ نے حضرت عائشہ (رض) سے انھوں نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح کی روایت کی ہے اور اس کے آخر میں یہ اضافہ ہے۔ ” فلیسوا باعراب “ کہ وہ دوسرے دیہاتیوں کی طرح نہیں ہیں۔ پس جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے بتلایا جو دیہاتی بلاوے کے وقت آجاتے ہیں وہ شہریوں کے حکم میں ہیں اور وہ دیہاتی جن کے تحائف قبول نہ کئے جائیں وہ ان کے خلاف ہیں جو کہ بلاوے کے وقت نہیں آتے (بلکہ سرکشی کرتے ہیں)
پس جو دیہاتی اس طرح کا ہو اس کی گواہی قابل قبول نہ ہوگی اور حدیث ابوہریرہ (رض) میں یہی لوگ مراد ہیں جیسا کہ ہماری رائے ہے۔ واللہ اعلم۔