hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 6113

.

الطحاوي

6113
Al Tahawi
۶۱۱۱: حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ قَالَ : أَخْبَرَنِیْ مَالِکٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْمُسَیِّبِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا ، مِثْلَہٗ وَلَمْ تَرْفَعْہُ .فَہٰذَا ہُوَ أَصْلُ الْحَدِیْثِ عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا ، فَہٰذَا حُکْمُ ہٰذَا الْبَابِ ، مِنْ طَرِیْقِ الْآثَارِ .وَأَمَّا النَّظَرُ فِیْ ذٰلِکَ فَاِنَّا قَدْ رَأَیْنَا الْاِحْرَامَ یَنْحَظِرُ بِہٖ أَشْیَائُ ، مِمَّا قَدْ کَانَتْ کُلُّہَا قَبْلَہٗ حَلَالًا ، مِنْہَا : الْجِمَاعُ ، وَالْقُبْلَۃُ ، وَقَصُّ الْأَظْفَارِ ، وَحَلْقُ الشَّعْرِ ، وَقَتْلُ الصَّیْدِ ، فَکُلُّ ہٰذِہِ الْأَشْیَائِ تَحْرُمُ بِالْاِحْرَامِ ، وَأَحْکَامُ ذٰلِکَ مُخْتَلِفَۃٌ .فَأَمَّا الْجِمَاعُ فَمَنْ أَصَابَہُ فِیْ اِحْرَامِہٖ، فَسَدَ اِحْرَامُہٗ، وَمَا سِوٰی ذٰلِکَ لَا یُفْسِدُ اِصَابَتُہُ الْاِحْرَامَ فَکَانَ الْجِمَاعُ أَغْلَظَ الْأَشْیَائِ الَّتِیْ یُحَرِّمُہَا الْاِحْرَامُ .ثُمَّ رَأَیْنَا مَنْ دَخَلَتْ عَلَیْہِ أَیَّامُ الْعَشْرِ ، وَہُوَ یُرِیْدُ أَنْ یُضَحِّیَ أَنَّ ذٰلِکَ لَا یَمْنَعُہٗ مِنَ الْجِمَاعِ فَلَمَّا کَانَ ذٰلِکَ لَا یَمْنَعُہٗ مِنَ الْجِمَاعِ ، وَہُوَ أَغْلَظُ مَا یَحْرُمُ بِالْاِحْرَامِ ، کَانَ أَحْرَی أَنْ لَا یَمْنَعَ مِمَّا دُوْنَ ذٰلِکَ .فَہٰذَا ہُوَ النَّظَرُ فِیْ ہٰذَا الْبَابِ أَیْضًا ، وَہُوَ قَوْلُ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ ، وَأَبِیْ یُوْسُفَ ، وَمُحَمَّدٍ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِمْ أَجْمَعِیْنَ .وَقَدْ رُوِیَ ذٰلِکَ أَیْضًا عَنْ جَمَاعَۃٍ مِنَ الْمُتَقَدِّمِیْنَ .
٦١١١: سعید بن مسیب نے حضرت امّ سلمہ (رض) سے اسی طرح روایت کی اور اس کو مرفوع قرار نہیں دیا۔ یہ آثار کے لحاظ سے اس کا حکم ہے۔ البتہ غور و فکر کے لحاظ سے اس طرح ہے کہ احرام سے کئی ایسی چیزیں منع کردی جاتی ہیں جو کہ پہلے حلال تھیں مثلاً جماع ‘ قبلہ (بوسہ) ناخن اتارنا ‘ بال مونڈھنا ‘ شکار مارنا ‘ یہ تمام اشیاء احرام میں حرام ہیں اور ان کے احکام مختلف ہیں مثلاً جو احرام میں جماع کرے اس کا احرام ختم ہوجائے گا ان کے علاوہ اور چیزیں احرام کو فاسد نہیں کرتیں جن چیزوں کو احرام نے حرام کیا ہے۔ ان میں سب سے زیادہ سخت جماع ہے پھر ہم نے غور کیا کہ جب عشرہ ذوالحجہ آجائے اور وہ آدمی قربانی کرنا چاہتا ہو تو اس کو جماع سے کوئی چیز مانع نہیں ہے جب احرام کی سب سے زیادہ سخت چیز عشرہ ذوالحجہ میں ممنوع نہیں تو اس سے کم درجہ کی چیز بدرجہ اولیٰ مانع نہ بنے گی اس باب میں قیاس کا تقاضا یہی ہے اور ہمارے ائمہ امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف و محمد رحمہم اللہ کا بھی یہی قول ہے۔
تابعین (رض) کے اقوال سے تائید :