۶۱۱۸: حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : ثَنَا ابْنُ وَہْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِیْ سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ ، عَنْ أَبِیْہِ‘ عَنْ عَبَایَۃَ بْنِ رِفَاعَۃَ ، عَنْ جَدِّہِ رَافِعِ بْنِ خَدِیجٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ أَنَّہٗ قَالَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : اِنَّا نَرْجُو ، أَوْ نَخْشَی أَنْ نَلْقَی الْعَدُوَّ ، وَلَیْسَ مَعَنَا مُدًی : أَفَنَذْبَحُ بِالْقَصَبِ ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا أَنْہَرَ الدَّمَ ، وَذُکِرَ اسْمُ اللّٰہِ عَلَیْہٖ، فَکُلُوْا ، اِلَّا السِّنَّ وَالظُّفْرَ .فَفِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ ، اِخْرَاجُ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، السِّنَّ وَالظُّفْرَ ، مِمَّا أَبَاحَ الذَّکَاۃَ بِہٖ .فَاحْتَمَلَ أَنْ یَکُوْنَ ذٰلِکَ عَلَی الْمَنْزُوْعَیْنِ ، وَاحْتَمَلَ أَنْ یَکُوْنَ عَلَی الْمَنْزُوْعَیْنِ وَغَیْرِ الْمَنْزُوْعَیْنِ .فَاِنْ کَانَ ذٰلِکَ عَلَی الْمَنْزُوْعَیْنِ ، فَہُمَا اِذَا کَانَا غَیْرَ مَنْزُوْعَیْنِ أَحْرَی أَنْ یَکُوْنَا کَذٰلِکَ .وَاِنْ کَانَ ذٰلِکَ عَلَی غَیْرِ الْمَنْزُوْعَیْنِ ، فَلَیْسَ فِیْ ذٰلِکَ دَلِیْلٌ عَلٰی حُکْمِ الْمَنْزُوْعَیْنِ فِیْ ذٰلِکَ کَیْفَ ہُوَ ؟ فَلَمَّا أَحَاطَ الْعِلْمُ بِوُقُوْعِ النَّہْیِ فِیْ ہٰذَا عَلَی غَیْرِ الْمَنْزُوْعَیْنِ ، وَلَمْ یُحِطْ الْعِلْمُ بِوُقُوْعِہِ عَلَی الْمَنْزُوْعَیْنِ ، وَقَدْ جَائَ حَدِیْثُ عَدِی ، الَّذِیْ ذٰکَرْنَاہُ مُطْلَقًا ، أَخْرَجْنَا مِنْہُ مَا أَحَاطَ الْعِلْمُ ، بِاِخْرَاجِ حَدِیْثِ رَافِعٍ اِیَّاہُ مِنْہٗ، وَتَرَکْنَا مَا لَمْ یُحِطْ الْعِلْمُ بِاِخْرَاجِ حَدِیْثِ رَافِعٍ اِیَّاہُ مِنْہٗ، عَلٰی مَا أَطْلَقَہُ حَدِیْثُ عَدِیِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ .وَقَدْ رُوِیَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا فِیْ ہٰذَا۔
٦١١٨: حضرت عبایہ بن رفاعہ نے اپنے دادا رافع بن خدیج سے نقل کیا ہے کہ انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے گزارش کی کہ ہمیں امید یا خطرہ ہے کہ کل دشمن سے مڈھ بھیڑ ہو اور ہمارے پاس چھری نہیں کیا ہم بانس کے ساتھ ذبح کرسکتے ہیں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو خون کو بہائے اور اس پر اللہ تعالیٰ کا نام لیا جائے اس کو کھاؤ سوائے ناخن اور دانت کے۔ اس روایت میں جن چیزوں سے ذبح ہوسکتا ہے ان میں سے ناخن اور دانت کو نکال دیا پس اس میں یہ بھی احتمال ہے کہ وہ اکھاڑے ہوئے ہوں اور یہ بھی احتمال ہے کہ وہ نہ اکھاڑے ہوئے ہوں اگر نہ اکھاڑے ہوئے ہوں اور پھر اکھاڑے ہوئے کا حکم کیا ہوگا اس کی کوئی دلیل یہاں موجود نہیں اور اگر وہ اکھاڑے ہوئے ہوں تو وہ دونوں جبکہ نہ اکھاڑے ہوئے ہوں زیادہ مناسب ہے کہ وہ اس طرح ہوں اور اگر اس سے مراد نہ اکھاڑے ہوئے ہوں اور پھر اکھاڑے ہوئے کے متعلق کیا حکم ہوگا اس کی کوئی دلیل نہیں اور نہ اکھاڑے ہوؤں کے متعلق جب پختہ طور نہی کا آنا ثابت ہوگیا اور اکھاڑے ہوئے کے متعلق معلوم نہ ہوا۔ حالانکہ حضرت عدی کی روایت میں یہ بات موجود ہے وہ مطلق ہے اور جن کے بارے میں ہمیں علم تھا ہم نے ان کو حدیث رافع کے ذریعے نکال دیا اور جن کے بارے میں علم نہیں تھا ان کو حدیث رافع کے ذریعے نکالنے والا معاملہ چھوڑ دیا جیسا کہ حدیث عدی (رض) میں مطلق آیا ہے اور حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے بھی یہ بات مروی ہے روایت یہ ہے۔