hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 6189

.

الطحاوي

6189
Al Tahawi
۶۱۸۷: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ ، قَالَ : ثَنَا أَبُوْ مُصْعَبٍ ، قَالَ : ثَنَا الدَّرَاوَرْدِیُّ ، فَذَکَرَ بِاِسْنَادِہٖ، مِثْلَہٗ۔أَفَلَا تَرَی أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، نَہَاہُمْ عَنْ ہَدْمِ آطَامِ الْمَدِیْنَۃِ ، لِأَنَّہَا زِیْنَۃٌ لَہَا .قَالُوْا : فَکَذٰلِکَ مَا نَہَاہُمْ عَنْہُ، مِنْ قَطْعِ شَجَرِہَا ، وَقَتْلِ صَیْدِہَا ، اِنَّمَا ہُوَ لِأَنَّ ذٰلِکَ زِیْنَۃٌ لِلْمَدِیْنَۃِ ، فَأَرَادَ أَنْ یَتْرُکَ لَہُمْ فِیْہَا زِیْنَتَہَا ، لِیَأْلَفُوْہَا وَیَطِیْبَ لَہُمْ بِذٰلِکَ سُکْنَاہَا ، لَا لِأَنَّہَا تَکُوْنُ فِیْ ذٰلِکَ کَ مَکَّۃَ فِیْ حُرْمَۃِ صَیْدِہَا وَنَبَاتِہَا ، وَوُجُوْبِ الْجَزَائِ عَلَی مَنِ انْتَہَکَ حُرْمَۃَ شَیْئٍ مِنْ ذٰلِکَ .ثُمَّ نَظَرْنَا ، ہَلْ نَجِدُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ ذٰلِکَ ، دَلِیْلًا آخَرَ ، یَدُلُّنَا عَلٰی مَا ذَکَرْنَا .فَاِذَا اِسْمَاعِیْلُ بْنُ یَحْیَی الْمُزَنِیّ قَدْ
٦١٨٧: ابو مصعب نے دراوردی سے پھر اس سے اپنی اسناد سے اسی طرح روایت بیان کی ہے۔ ذرا غور فرمائیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدینہ کے قلعوں کو گرانے سے اس لیے روک دیا کہ وہ مدینہ منورہ کی زینت ہیں بالکل اسی طرح درخت کاٹنے اور شکار مارنے سے بھی ممانعت کی وجہ اس کا باعث زینت ہونا ہے جب درخت وغیرہ زینت کی چیزیں رہیں گے تو وہاں کے لوگ انس و الفت سے رہیں گے۔ اس بناء پر نہیں کہ حرمت میں مکہ کی طرح ان کی نبات و شکار کا حکم ہے اور حرمت کی خلاف ورزی کرنے والے کی اسی طرح سزا ہے۔ ذرا غور فرمائیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدینہ کے قلعوں کو گرانے سے اس لیے روک دیا کہ وہ مدینہ منورہ کی زینت ہیں بالکل اسی طرح درخت کاٹنے اور شکار مارنے سے بھی ممانعت کی وجہ اس کا باعث زینت ہونا ہے جب درخت وغیرہ زینت کی چیزیں رہیں گے تو وہاں کے لوگ انس و الفت سے رہیں گے۔ اس بناء پر نہیں کہ حرمت میں مکہ کی طرح ان کی نبات و شکار کا حکم ہے اور حرمت کی خلاف ورزی کرنے والے کی اسی طرح سزا ہے۔
اس بات کا روایات سے ثبوت :