۶۱۹۹: حَدَّثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَ : ثَنَا أَبُو الْوَلِیْدِ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ عَوَانَۃَ ، عَنْ حُصَیْنٍ ، فَذَکَرَ بِاِسْنَادِہٖ مِثْلَہٗ۔، غَیْرَ أَنَّہٗ قَالَ : ثَابِتُ بْنُ وَدِیْعَۃَ .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَفِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ ، خِلَافُ مَا فِی الْحَدِیْثِ الْأَوَّلِ ، لِأَنَّ فِیْ ہٰذَا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمْ یَنْہَہُمْ عَنْ أَکْلِہَا ، وَقَدْ خَشِیَ فِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ أَنْ یَکُوْنَ مَمْسُوْخًا ، کَمَا خَشِیَ فِی الْحَدِیْثِ الْأَوَّلِ .غَیْرَ أَنَّہٗ قَدْ یَجُوْزُ أَنْ یَکُوْنَ تَرَکَ النَّہْیَ ، لِأَنَّہُمْ کَانُوْا فِیْ مَجَاعَۃٍ ، عَلٰی مَا فِیْ حَدِیْثِ الْأَعْمَشِ ، فَأَبَاحَ ذٰلِکَ لَہُمْ لِلضَّرُوْرَۃِ .ثُمَّ رَجَعْنَا اِلٰی مَا فِیْ ذٰلِکَ أَیْضًا ، سِوَیْ ہٰذَیْنِ الْحَدِیْثَیْنِ۔
٦١٩٩: ابو عوانہ نے حسن نے پھر انھوں نے اپنی اسناد سے روایت کی ہے البتہ انھوں نے ثابت بن ودیعہ نام بتایا ہے۔ امام طحاوی (رح) کہتے ہیں : یہ روایت پہلی روایت کے خلاف ہے کیونکہ اس روایت میں یہ ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو کھانے سے منع نہیں فرمایا البتہ پہلی روایت کی طرح مسخ شدہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا عدم ممانعت کی وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ وہ سخت بھوک میں مبتلا تھے اور ضرورت کے لیے اس کا کھانا ان کے لیے مباح ہوا۔ اب ہم ان دونوں روایات کے علاوہ دیگر روایات کی طرف رجوع کرتے ہیں چنانچہ ابراہیم مرزوق کی روایت ملاحظہ فرمائیں۔