۶۲۳۵ : حَدَّثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ دَاوٗدَ قَالَ : ثَنَا شُعْبَۃُ ، فَذَکَرَ بِاِسْنَادِہٖ مِثْلَہٗ۔غَیْرَ أَنَّہٗ قَالَ : عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ مَعْقِلٍ وَقَالَ : عَنْ رِجَالٍ مِنْ مُزَیْنَۃَ الظَّاہِرَۃِ وَلَمْ یَقُلْ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَقَالَ : اِنَّ أَبْجَرَ ، أَوْ ابْنَ أَبْجَرَ .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ اِلَی ہٰذَا، فَأَبَاحُوْا أَکْلَ لُحُوْمِ الْحُمُرِ الْأَہْلِیَّۃِ ، وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِہٰذَا الْحَدِیْثِ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ ، فَکَرِہُوْا أَکْلَ لُحُوْمِ الْحُمُرِ الْأَہْلِیَّۃِ ، وَقَالُوْا : قَدْ یَجُوْزُ أَنْ یَکُوْنَ الْحُمُرُ الَّتِی أَبَاحَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَکْلَہَا فِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ ، کَانَتْ وَحْشِیَّۃً ، وَیَکُوْنَ قَوْلُ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَاِنَّمَا کَرِہْتُ لَکُمْ جَوَّالَ الْقَرْیَۃِ عَلَی الْأَہْلِیَّۃِ .وَقَدْ رَوَی شَرِیْکٌ ، حَدِیْثَ غَالِبٍ ہٰذَا، عَلَی خِلَافِ مَا رَوَاہُ مِسْعَرٌ وَشُعْبَۃُ .
٦٢٣٥: ابو داؤد نے شعبہ سے اور انھوں نے اپنی اسناد سے اسی طرح کی روایت نقل کی صرف فرق یہ ہے کہ انھوں نے عبدالرحمن بن معقل کہا اور یہ الفاظ بھی نقل کئے کہ بنو مزینہ کے غالب آدمیوں سے اور انھوں نے ” من اصحاب النبی 5 کا لفظ ذکر نہیں کیا بلکہ یہ کہا ان ابجر او ابن ابجر ۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں : کچھ لوگوں کا خیال یہ ہے کہ گھریلو گدھے کا گوشت درست ہے اور انھوں نے اس روایت کو دلیل بنایا ہے۔ گھریلو گدھوں کا گوشت مکروہ ہے دلیل یہ ہے ممکن ہے کہ جن گدھوں کے گوشت کو جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مباح قرار دیا وہ وحشی ہوں اور کر ہت لکم جو ال القریہ اس سے مراد گھریلو گدھے ہوں۔ شریک نے اس روایت کو مسعر اور شعبہ کے خلاف نقل کیا ہے۔