۶۲۶ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ قَالَ : ثَنَا أَبُو الْوَلِیْدِ قَالَ : ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ، عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ وَائِلٍ عَنْ (طَارِقِ بْنِ سُوَیْدِ ڑ الْحَضْرَمِیِّ قَالَ : قُلْتُ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، إِنَّ بِأَرْضِنَا أَعْنَابًا نَعْتَصِرُہَا، فَنَشْرَبُ مِنْہَا، قَالَ : لَا فَرَاجَعْتُہٗ فَقَالَ : لَا .فَقُلْتُ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، إِنَّا نَسْتَشْفِیْ بِہَا الْمَرِیْضَ قَالَ : ذَاکَ دَائٌ ، وَلَیْسَ بِشِفَائٍ) وَکَمَا قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مَسْعُوْدٍ وَغَیْرُہٗ، مِنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ .
٦٢٦: علقمہ بن وائل نے بیان کیا کہ حضرت طارق بن سوید الحضرمی (رض) کہتے ہیں کہ میں نے عرض کی یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہماری سرزمین میں انگور ہوتے ہیں ہم ان کو نچوڑتے ہیں کیا ہم اس سے پی لیا کریں فرمایا نہیں میں نے دوبارہ سوال کیا تو آپ نے پھر فرمایا نہیں میں نے پوچھا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم اسے مریضوں کو پلاتے ہیں تاکہ بیماری درست ہو آپ نے فرمایا وہ تو بیماری ہے شفاء نہیں۔ جیسا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) اور دیگر اصحاب رسول کی روایات میں وارد ہے۔
تخریج : مسلم فی الاشربہ ١٢‘ ابو داؤد فی الطب باب ١١‘ ٣٨٧٣‘ ترمذی فی الطب باب ٨‘ ٢٠٤٦‘ ابن ماجہ فی الطب باب ٣٧‘ ٣٥٠٠‘ باختلاف قلیل من الالفاظ۔
اسی طرح عبداللہ بن مسعود (رض) کی روایت ہے۔