۶۲۶۵: حَدَّثَنَا یَزِیْدُ بْنُ سِنَانٍ قَالَ : ثَنَا مَکِّیُّ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ وَأَبُوْ عَاصِمٍ قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِیْ نَافِعٌ قَالَ : قَالَ ابْنُ عُمَرَ ، ثُمَّ ذَکَرَ مِثْلَہٗ۔فَکَانَ مِنَ الْحُجَّۃِ عَلَیْہِمْ فِیْ ذٰلِکَ أَنَّ جَابِرًا رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَدْ أَخْبَرَ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَطْعَمَہُمْ یَوْمئِذٍ لُحُوْمَ الْخَیْلِ ، وَنَہَاہُمْ عَنْ لُحُوْمِ الْحُمُرِ ، وَہُمْ کَانُوْا اِلَی الْخَیْلِ أَحْوَجَ مِنْہُمْ اِلَی الْحُمُرِ .فَدَلَّ تَرْکُہُ مَنْعَہُمْ أَکْلَ لُحُوْمِ الْخَیْلِ أَنَّہُمْ کَانُوْا فِیْ بَقِیَّۃٍ مِنْ الظَّہْرِ ، وَلَوْ کَانُوْا فِی قِلَّۃٍ مِنْ الظَّہْرِ ، حَتّٰی اُحْتِیجَ لِذٰلِکَ أَنْ یُمْنَعُوْا مِنْ أَکْلِ لُحُوْمِ الْحُمُرِ ، لَکَانُوْا اِلَی الْمَنْعِ مِنْ أَکْلِ لُحُوْمِ الْخَیْلِ أَحْوَجَ ، لِأَنَّہُمْ یَحْمِلُوْنَ عَلَی الْخَیْلِ ، کَمَا یَحْمِلُوْنَ عَلَی الْحُمُرِ ، وَیَرْکَبُوْنَ الْخَیْلَ بَعْدَ ذٰلِکَ لِمَعَانٍ لَا یَرْکَبُوْنَ لَہَا الْحُمُرَ .فَدَلَّ مَا ذَکَرْنَا أَنَّ الْعِلَّۃَ الَّتِیْ لَہَا مُنِعُوْا مِنْ أَکْلِ لُحُوْمِ الْحُمُرِ ، لَیْسَتْ ہِیَ ہٰذِہِ الْعِلَّۃَ .وَقَدْ قَالَ آخَرُوْنَ : اِنَّمَا مُنِعُوْا یَوْمئِذٍ مِنْ أَکْلِ لُحُوْمِ الْحُمُرِ ، لِأَنَّہَا حُمُرٌ کَانَتْ تَأْکُلُ الْعَذِرَۃَ .وَرَوَوْا فِیْ ذٰلِکَ مَا
٦٢٦٥: نافع نے حضرت ابن عمر (رض) سے اسی کی مثل روایت کی ہے۔ گزشتہ روایات میں حضرت جابر (رض) کی روایت میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا صاف ارشاد ہے کہ آپ نے ان کو گھوڑے کا گوشت کھلایا اور گدھے کے گوشت سے منع فرمایا حالانکہ گھوڑے کی گدھے سے زیادہ ضرورت تھی۔ گھوڑوں کا گوشت کھانے سے ممانعت نہ کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ ان کے پاس زائد سواریاں موجود تھیں اگر سواریوں کی قلت کی وجہ سے گدھوں کے گوشت کی ممانعت ہوتی تو گھوڑوں کے گوشت کی ممانعت اس بنیاد پر بدرجہ اولیٰ ہوتی کیونکہ گھوڑے گدھوں کی طرح سامان لادنے کا کام بھی دیتے ہیں اور گھوڑوں پر سواری کی جاتی ہے اور کئی حالات میں گدھوں پر سواری کی ہی نہیں جاتی۔ اس سے یہ بات خود ثابت ہوگئی کہ گدھوں کے گوشت کھانے کی ممانعت کی وہ علت نہیں جو آپ نے بیان فرمائی۔ ایک اور فریق کا استدلال یہ ہے کہ گدھوں کا گوشت کھانے کی ممانعت اس لیے فرمائی گئی کہ وہ گندگی کھانے والے گدھے تھے اور انھوں نے ان روایات کو دلیل بنایا۔