۶۲۸۷: حَدَّثَنَا فَہْدٌ قَالَ : ثَنَا أَبُوْبَکْرِ بْنُ أَبِیْ شَیْبَۃَ ، قَالَ : ثَنَا عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ مُوْسَی ، عَنْ اِسْرَائِیْلَ ، عَنْ اِبْرَاھِیْمَ بْنِ الْمُہَاجِرِ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیْرٍ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِثْلَہٗ غَیْرَ أَنَّہٗ لَمْ یَذْکُرْ قَوْلَہٗ وَأَنْہَاکُمْ عَنْ کُلِّ مُسْکِرٍ .قِیْلَ لَہٗ : یَحْتَمِلُ ہٰذَانِ الْحَدِیْثَانِ ، جَمِیْعَ الْمَعَانِی الَّتِیْ یَحْتَمِلُہَا الْحَدِیْثُ الْأَوَّلُ ، غَیْرَ مَعْنًی وَاحِدٍ ، وَہُوَ مَا احْتَمَلَہُ الْحَدِیْثُ الْأَوَّلُ مِمَّا حَمَلَہٗ عَلَیْہِ مَنْ ذَہَبَ اِلٰی کَرَاہَۃِ نَقِیعِ التَّمْرِ وَالزَّبِیْبِ ، فَاِنَّہٗ لَا یَحْتَمِلُہُ ہٰذَا الْحَدِیْثُ ، لِأَنَّہٗ قَرَنَ مَعَ ذٰلِکَ خَمْرَ الْحِنْطَۃِ وَخَمْرَ الشَّعِیْرِ ، وَہُمْ لَا یَقُوْلُوْنَ ذٰلِکَ ، لِأَنَّہُمْ لَا یَرَوْنَ بِنَقِیعِ الْحِنْطَۃِ وَالشَّعِیْرِ بَأْسًا ، وَیُفَرِّقُوْنَ بَیْنَہُمَا وَبَیْنَ نَقِیعِ التَّمْرِ وَالزَّبِیْبِ ، فَذٰلِکَ التَّأْوِیْلُ ، لَا یَحْتَمِلُہُ ہٰذَا الْحَدِیْثُ وَلٰـکِنَّہٗ یَحْتَمِلُ التَّأْوِیْلَاتِ الْأُخَرَ کَمَا یَحْتَمِلُہُ الْحَدِیْثُ الْأَوَّلُ .فَاِنْ احْتَجَّ فِیْ ذٰلِکَ بِمَا رُوِیَ عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ :
٦٢٨٧: شعبی نے نعمان ابن بشیر (رض) اور انھوں نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح کی روایت ذکر کی البتہ اس میں ” انہاکم عن کل مسکر “ کے الفاظ نہیں ہیں۔ ان دونوں روایاتوں میں وہ تمام احتمالات ہیں جو پہلی روایت میں ہم نے ذکر کئے البتہ ایک معنی کا احتمال نہیں جو کہ فقط پہلی روایت میں پایا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ جنہوں نے کھجور اور کشمش کے رس کو مکروہ قرار دیا ہے ان روایات میں اس معنی کا حتمال اس لیے نہیں کیونکہ پہلی روایت میں گندم اور جو اور شہد کی خمر کو بھی ساتھ ملایا گیا ہے اور فریق اول اس کا قائل نہیں کیونکہ ان کے خیال میں جو اور گندم کے نچوڑ میں کوئی حرج نہیں اسی لیے وہ ان کے نچوڑ اور کھجور اور کشمش کے نچوڑ میں فرق کرتے ہیں تو اس روایت میں اس تاویل کا احتمال نہیں بلکہ اس کے علاوہ تاویلات کا احتمال ہے۔ اگر کوئی معترض کہے کہ کچی اور پکی کھجوروں کا رس بھی ان کے ہاں خمر میں شمار ہوتا تھا جیسا کہ یہ روایات دلالت کرتی ہیں۔
تخریج : ابو داؤد فی الاشربہ باب ٤۔