hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 633

.

الطحاوي

633
Al Tahawi
۶۳۳ : مَا حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ : ثَنَا الْفِرْیَابِیُّ قَالَ : ثَنَا إِسْرَائِیْلُ قَالَ : ثَنَا جَابِرٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ قَالَ : لَا بَأْسَ بِأَبْوَالِ الْاِبِلِ وَالْبَقَرِ وَالْغَنَمِ، أَنْ یُتَدَاوٰی بِہَا .فَقَدْ یَجُوْزُ أَنْ یَکُوْنَ ذَہَبَ إِلٰی ذٰلِکَ لِأَنَّہَا - عِنْدَہٗ - حَلَالٌ طَاہِرَۃٌ، فِی الْأَحْوَالِ کُلِّہَا کَمَا قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ .وَقَدْ یَجُوْزُ أَنْ یَکُوْنَ أَبَاحَ الْعِلَاجَ بِہَا لِلضَّرُوْرَۃِ، لَا لِأَنَّہَا طَاہِرَۃٌ فِیْ نَفْسِہَا، وَلَا مُبَاحَۃٌ فِیْ غَیْرِ حَالِ الضَّرُوْرَۃِ .
٦٣٣: جابر نے بیان کیا کہ محمد بن علی (رح) کہتے ہیں اونٹوں بکریوں وغیرہ کے ابوال کو علاج کے لیے استعمال کرنا درست ہے۔ عین ممکن ہے کہ انھوں نے یہ مؤقف اس لیے اختیار کیا ہو کہ وہ ان کے ہاں تمام احوال میں حلال اور پاک ہے جیسا کہ امام محمد (رح) کا قول ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ ضرورت کی خاطر بطور علاج مباح کیا ہو۔ اس بناء پر نہیں کہ یہ ذاتی طور پر پاک ہے اور ضرورت کے علاوہ بھی یہ مباح ہے۔
تخریج : دارقطنی فی السنن ١؍١٢٨
اس روایت کے دو مفہوم ہیں نمبر ایک علاج کے لیے استعمال کی وجہ حلال و طاہر ہونا ہو جیسا کہ امام محمد (رح) کا قول ہے۔ دوسرا یہ بھی عین ممکن ہے ضرورۃ علاج کے لیے مباح کیا ہو اس بناء پر نہیں کہ یہ فی نفسھا پاک ہے اور ضرورت کے علاوہ موقع پر بھی مباح ہے۔