hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 637

.

الطحاوي

637
Al Tahawi
۶۳۷ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ قَالَ : ثَنَا الْوَہْبِیُّ قَالَ : ثَنَا ابْنُ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّہْرِیِّ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا عَنْ (عَمَّارٍ قَالَ : کُنْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حِیْنَ نَزَلَتْ آیَۃُ التَّیَمُّمِ، فَضَرَبْنَا ضَرْبَۃً وَاحِدَۃً لِلْوَجْہِ ثُمَّ ضَرَبْنَا ضَرْبَۃً لِلْیَدَیْنِ إِلَی الْمَنْکِبَیْنِ ظَہْرًا وَبَطْنًا) .
٦٣٧: عبداللہ بن عباس (رض) نے نقل کیا کہ حضرت عمار کہتے ہیں کہ جب آیت تیمم نازل ہوئی تو میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھا ہم نے ایک ضرب چہرے کے لیے لگائی پھر ایک ضرب ہاتھوں کے لیے کندھوں تک ظاہر و باطن پر پھیرنے کے لیے لگائی۔
تخریج : بخاری فی التیمم مسلم فی الحیض ١١٠‘ ابو داؤد فی الطھارۃ باب ١٢١‘ روایت ٣١٨‘ ٣١٩‘ ترمذی فی الطھارۃ با ١١٠‘ نسائی فی الطھارۃ باب ١٩٩‘ ابن ماجہ فی الطھارۃ ٥٦٩‘ مسند احمد ٤؍٢٦٤‘ بیہقی فی السنن ١؍٢١٠‘ دارقطنی فی السنن ١؍١٨٢۔
خلاصہ الزام : تیمم کا معنی قصد ہے اس میں ائمہ اربعہ اور جمہور فقہاء نیت کو شرط قرار دیتے ہیں امام زفر (رح) اس کے قائل نہیں تیمم میں امام ابوحنیفہ و شافعی ‘ جمہور فقہاء و محدثین (رح) دو ضربات کے قائل ہیں مگر امام احمد ‘ محمد (رح) کے نزدیک ایک ضرب سے دونوں پر تیمم کیا جائے گا تیمم یہ مکمل ہاتھوں کا وظیفہ ہے جیسا کہ زہری (رح) کا قول ہے اور امام احمد ومالک رسغین (گٹے) تک کہتے ہیں جبکہ جمہور فقہاء و محدثین احناف و شوافع کہنیوں تک کا وظیفہ قرار دیتے ہیں۔
فریق اوّل : یعنی امام زہری کا مؤقف کہ تیمم دو ضربیں ہیں ہاتھ بغل و کندھے تک محل تیمم ہے۔