hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 6395

.

الطحاوي

6395
Al Tahawi
۶۳۹۳: حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ قَالَ : ثَنَا اِسْمَاعِیْلُ بْنُ عَیَّاشٍ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِیْ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ الدِّیلِیِّ ، عَنْ أَبِیْہِ قَالَ : أَتَیْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حِیْنَ نَزَلَ تَحْرِیْمُ الْخَمْرِ فَقُلْتُ :یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، اِنَّا أَصْحَابُ کَرْمٍ ، وَقَدْ نَزَلَ تَحْرِیْمُ الْخَمْرِ ، فَمَاذَا نَصْنَعُ بِہَا ؟ فَقَالَ تَتَّخِذُوْنَہٗ زَبِیْبًا .قَالَ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، نَصْنَعُ بِالزَّبِیْبِ مَاذَا ؟ قَالَ تَصْنَعُوْنَہٗ عَلَی غَدَائِکُمْ ، وَتَشْرَبُوْنَہٗ عَلَی عَشَائِکُمْ ، وَتَشْرَبُوْنَہٗ عَلَی غَدَائِکُمْ. قَالُوْا : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، أَلَا نُؤَخِّرُہُ حَتّٰی یَشْتَدَّ قَالَ لَا تَجْعَلُوْھُ فِی الْقِلَالِ وَالدُّبَّائِ .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ اِلٰی أَنَّ الْاِنْتِبَاذَ فِی الدُّبَّائِ ، وَالنَّقِیرِ ، وَالْحَنْتَمِ ، وَالْمُزَفَّتِ ، حَرَامٌ ، وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِہٰذِہِ الْآثَارِ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ، فَأَبَاحُوا الْاِنْتِبَاذَ فِی الْأَوْعِیَۃِ کُلِّہَا وَکَانَ مِنَ الْحُجَّۃِ لَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ أَنَّ ہٰذِہِ الْآثَارَ الَّتِیْ رَوَیْنَاہَا ، مَنْسُوْخَۃٌ کُلُّہَا .فَمِمَّا رُوِیَ فِیْ نَسْخِہَا۔
٦٣٩٣: حضرت عبداللہ بن دیلمی ‘ اپنے والد سے مروی ہیں کہ جب خمر کی حرمت نازل ہوئی تو میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر ہوا اور عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہم انگوروں والے لوگ ہیں اور خمر کی حرمت نازل ہوگئی ‘ ہم اب انگوروں کا کیا کریں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ان کو کشمش بنادو ‘ انھوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کشمش کے ساتھ کیا کریں ؟ فرمایا : اسے صبح بھگو دیا کرو اور شام کو پی لیا کرو اور شام کا رکھا ہوا صبح پی لیا کرو ‘ انھوں نے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا ہم اسے مزید نہ رکھیں تاکہ وہ تیز ہوجائے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا گھڑوں اور کدو کے برتن میں نہ رکھو۔ ابوجعفر طحاوی (رح) کا بیان ہے کہ ایک جماعت اسی طرف گئی ہے کہ کدو ‘ کھرچی ہوئی لکڑی کے برتن ‘ گھڑے اور رال ملے ہوئے برتن میں نبیذ بنانا حرام ہے ‘ انھوں نے انہی روایت کو اپنا مستدل بنایا ہے۔ دوسرے فریق کا مؤقف ہے کہ ہر قسم کے برتن میں نبیذ کی ممانعت ہے ‘ اس سلسلے میں ان کی دلیل ہے کہ مذکورہ بالا تمام روایت کا نسخ ثابت ہے۔
اِس کے نسخ کے سلسلے میں احادیث یوں مروی ہیں :