hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 643

.

الطحاوي

643
Al Tahawi
۶۴۳ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النُّعْمَانِ ؛ وَابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ، قَالَا : ثَنَا الْأُوَیْسِیُّ، قَالَ : ثَنَا اِبْرَاہِیْمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ کَیْسَانَ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ یَاسِرٍ، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِثْلَہٗ .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ إِلٰی ھٰذَا، فَقَالُوْا : ھٰکَذَا التَّیَمُّمُ، ضَرْبَۃٌ لِلْوَجْہِ، وَضَرْبَۃٌ لِلذِّرَاعَیْنِ إِلَی الْمَنَاکِبِ وَالْآبَاطِ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ، فَافْتَرَقُوْا فِرْقَتَیْنِ .فَقَالَتْ فِرْقَۃٌ مِنْہُمْ : (التَّیَمُّمُ لِلْوَجْہِ وَالْیَدَیْنِ إِلَی الْمِرْفَقَیْنِ) وَقَالَتْ فِرْقَۃٌ مِنْہُمْ : (التَّیَمُّمُ لِلْوَجْہِ وَالْکَفَّیْنِ) .فَکَانَ مِنَ الْحُجَّۃِ لِہَذَیْنِ الْفَرِیْقَیْنِ عَلَی الْفِرْقَۃِ الْأُوْلٰی، أَنَّ عَمَّارَ بْنَ یَاسِرٍ لَمْ یَذْکُرْ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَمَرَہُمْ أَنْ یَتَیَمَّمُوْا کَذٰلِکَ، وَإِنَّمَا أَخْبَرَہُمْ عَنْ فِعْلِہِمْ .فَقَدْ یَحْتَمِلُ أَنْ تَکُوْنَ الْآیَۃُ لَمَّا أُنْزِلَتْ لَمْ تُنْزَلْ بِتَمَامِہَا، وَإِنَّمَا أُنْزِلَ مِنْہَا (فَتَیَمَّمُوْا صَعِیْدًا طَیِّبًا) [المائدۃ : ۶] وَلَمْ یُبَیِّنْ لَہُمْ کَیْفَ یَتَیَمَّمُوْنَ .فَکَانَ ذٰلِکَ عِنْدَہُمْ عَلَی کُلٍّ مِمَّا فَعَلُوْا مِنَ التَّیَمُّمِ، لَا وَقَّتَ فِیْ ذٰلِکَ وَقْتًا، وَلَا عُضْوًا مَقْصُوْدًا بِہٖ إِلَیْہِ بِعَیْنِہٖ، حَتّٰی نَزَلَتْ بَعْدَ ذٰلِکَ (فَامْسَحُوْا بِوُجُوْہِکُمْ وَأَیْدِیَکُمْ مِنْہُ) وَمِمَّا یَدُلُّ عَلٰی مَا قُلْنَا مِنْ ذٰلِکَ۔
٦٤٣: عبیداللہ بن عبداللہ نے ابن عباس (رض) سے نقل کیا کہ عمار بن یاسر (رض) نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں کہ علماء کی ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ تیمم اس طرح ہے کہ ایک ضرب تو چہرے کے لیے اور ایک ضرب بازوؤں ‘ کندھوں اور بغل تک کے لیے ہوگی۔ علماء کی دوسری جماعت نے ان کی اس سلسلہ میں مخالفت کی ہے۔ پھر ان کی دو جماعتیں ہیں ایک گروہ کا کہنا یہ ہے کہ تیمم چہرے کے لیے اور دونوں ہاتھوں پر کہنیوں سمیت کیا جائے گا اور ایک گروہ کہتا ہے کہ تیمم چہرے اور دو ہتھیلیوں پر ہے۔ ان دونوں گروہوں نے پہلے گروہ کے خلاف یہ دلیل پیش کی ہے کہ حضرت عمار بن یاسر (رض) نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس طرح تیمم کا حکم نہیں کیا ‘ صرف ان کو صحابہ کرام (رض) کے ایک عمل کی اطلاع دے دی ہے۔ پس اس میں یہ احتمال ہے کہ جب آیت اتری تو مکمل نہ اتری ہو اور اس میں { فَتَیَمَّمُوْا صَعِیْدًا طَیِّبًا } تک اتری ہو اور ان کو یہ وضاحت نہ کی گئی کہ کس طرح انھوں نے تیمم کرنا ہے۔ چنانچہ صحابہ کرام (رض) کے ہاں وہی طریقہ سامنے آیا جو انھوں نے اختیار کیا اس کے لیے نہ تو کوئی عضو مقرر تھا اور نہ اس کے لیے کوئی وقت مقرر تھا۔ یہاں تک کہ آیت کا یہ حصہ : { فَامْسَحُوْا بِوُجُوْھِکُمْ وَأَیْدِیَکُمْ مِّنْہُ } نازل ہوا اور اس پر دلالت کے لیے یہ روایات شاہد ہیں۔
حاصل روایات : ان تمام روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ تیمم دو ضربیں ہیں ایک ضرب چہرے کے لیے اور دوسری ضرب بازوؤں کے لیے جن کی حد بالائی جانب میں کندھے اور نچلی جانب میں بغل تک ہوگی۔
فریق دوم :
دو جماعتوں میں منقسم ہوگیا چنانچہ ایک فریق کہتا ہے کہ تیمم کی ضرب اول چہرے اور دوسری ضرب ہاتھوں پر کہنیوں سمیت پھیرنے کے لیے ہے۔ اور دوسرا فریق کہتا ہے چہرے کے لیے ایک ضرب اور دوسری ضرب کفین کے لیے گٹوں تک ہے۔
جواب روایات :
حضرت عمار (رض) کی روایات میں یہ کہیں مذکور نہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو اس طرح تیمم کا فرمایا بلکہ ان کے فعل تیمم کی خبر دی ہے پس اس سے بغل تک تیمم کی دلیل نہیں بن سکتی۔
نمبر ٢: جب آیت تیمم اتری تو مکمل ایک مرتبہ نازل نہیں ہوئی بلکہ : { فَتَیَمَّمُوْا صَعِیْدًا طَیِّبًا } [المائدہ : ٦] کا ٹکڑا پہلے اترا اس میں تیمم کا حکم تو اتارا گیا مگر اس کی کیفیت واضح نہ کی گئی بلکہ نہ تو تیمم کا وقت مقرر کیا گیا اور نہ عضو معین کی تحدید کی گئی یہاں تک کہ آیت کا حصہ :{ فَامْسَحُوْا بِوُجُوْھِکُمْ وَاَیْدِیْکُمْ مِّنْہُ ١ } [المائدہ : ٦] اتری اور اس بات کا ثبوت اس روایت عائشہ (رض) سے ہوتا ہے جس کو ہم پیش کرتے ہیں۔