hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 646

.

الطحاوي

646
Al Tahawi
۶۴۶ : حَدَّثَنَا أَبُوْ بَکْرَۃَ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ دَاوٗدَ قَالَ : ثَنَا شُعْبَۃُ، عَنِ الْحَکَمِ قَالَ : سَمِعْتُ ذِرَّ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ یُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ أَبْزٰی، عَنْ أَبِیْہِ، أَنَّ (رَجُلًا أَتٰی عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فَقَالَ : إِنِّیْ کُنْتُ فِیْ سَفَرٍ، فَأَجْنَبْتُ، فَلَمْ أَجِدِ الْمَائَ .فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ : لَا تُصَلِّ فَقَالَ عَمَّارٌ : یَا أَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ، أَمَا تَذْکُرُ أَنِّیْ کُنْتُ أَنَا وَإِیَّاکَ فِیْ سَرِیَّۃٍ، فَأَجْنَبْنَا، فَلَمْ نَجِدَ الْمَائَ، فَأَمَّا أَنْتَ فَلَمْ تُصَلِّ، وَأَمَّا أَنَا فَتَمَرَّغْتُ فِی التُّرَابِ .فَأَتَیْنَا النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْنَاہُ، فَقَالَ : أَمَّا أَنْتَ، فَکَانَ یَکْفِیْکَ وَقَالَ بِیَدَیْہِ، فَضَرَبَ بِہِمَا، وَنَفَخَ فِیْہِمَا، وَمَسَحَ بِہِمَا وَجْہَہٗ وَکَفَّیْہِ .فَفَعَلَ عَمَّارٌ) - اِذْ تَمَرَّغَ - یُرِیْدُ بِذٰلِکَ، التَّیَمُّمَ، وَإِنْ کَانَ ذٰلِکَ بَعْدَ نُزُوْلِ الْآیَۃِ، فَإِنَّمَا کَانَ ذٰلِکَ مِنْہُ - عِنْدَنَا - وَاللّٰہُ أَعْلَمُ، لِأَنَّہٗ عَمِلَ عَلٰی أَنَّ التَّیَمُّمَ لِلْجَنَابَۃِ، غَیْرُ التَّیَمُّمِ لِلْحَدَثِ ؛ حَتّٰی عَلَّمَہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہُمَا سَوَائٌ .
٦٤٦: عبدالرحمن بن ابزی بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت عمر (رض) کے ہاں آیا اور کہنے لگا کہ میں سفر میں تھا مجھے نہانے کی حاجت ہوگئی مگر مجھے پانی نہ ملا تو عمر (رض) نے کہا تو نماز مت پڑھ عمار کہنے لگے اے امیرالمؤمنین ! کیا آپ کو یاد نہیں کہ میں اور آپ ایک سریہ میں تھے پھر ہمیں جنابت کی حالت پیش آگئی ہم نے پانی نہ پایا آپ نے تو نماز نہ پڑھی اور میں نے مٹی میں لوٹ پوٹ ہو کر تمام جسم پر مٹی مل لی پھر ہم جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آئے اور آپ کو اس کی اطلاع دی تو آپ نے فرمایا تجھے اتنا کافی تھا کہ اپنے دونوں ہاتھوں کو زمین پر مارتے اور ان پر پھونک مارتے اور ان کو چہرے اور ہتھیلیوں پر مل لیتے۔ پس حضرت عمار (رض) کا عمل کہ وہ تیمم کا ارادہ کر کے خود مٹی میں لوٹ پوٹ ہوتے۔ اگر آپ کا یہ عمل نزول آیت کے بعد تھا تو ہمارے ہاں انھوں نے یہ عمل اس لیے کیا کہ وہ جنابت اور حدث کو الگ الگ خیال کرتے تھے یہاں تک کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے عمل سے بتلایا کہ دونوں کے لیے تیمم ایک جیسا ہے۔
تخریج : بخاری فی التیمم باب ٨‘ مسلم فی الحیض ١١٠‘ ابو داؤد فی الطھارۃ باب ١٢١‘ ٣٢٢‘ نسائی فی الطھارۃ باب ١٩٨‘ مسند احمد ٤؍٢٦٤‘ مصنف ابن ابی شیبہ کتاب الطھارۃ ١؍١٥٩۔
امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں عمار بن یاسر کا فعل ہے جس میں انھوں نے جسم کو مکمل مٹی میں ملوث کیا اگر تو نزول آیت سے بعد کی بات ہے تو یہ ان کا فعل ہے جس کا جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم نہیں فرمایا کیونکہ انھوں نے سمجھا کہ یہ تیمم جنابت ‘ حدث کے تیمم سے مختلف ہے یہاں تک کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو فرمایا کہ تیمم دونوں کا برابر ہے۔