۶۵۴۵: حَدَّثَنَا أَبُوْبَکْرَۃَ قَالَ : ثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، قَالَ : ثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ وَبَرَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ سُوَیْد بْنِ غَفَلَۃَ قَالَ : أَتَیْنَا عُمَرَ ، وَعَلَیْنَا مِنْ ثِیَابِ أَہْلِ فَارِسٍ ، أَوْ قَالَ : کِسْرَی فَقَالَ بَرَّحَ اللّٰہُ ہٰذِہِ الْوُجُوْہَ فَرَجَعْنَا فَأَلْقَیْنَاہَا ، وَلَبِسْنَا ثِیَابَ الْعَرَبِ ، فَرَجَعْنَا اِلَیْہِ فَقَالَ أَنْتُمْ خَیْرٌ مِنْ قَوْمٍ أَتَوْنِیْ، وَعَلَیْہِمْ ثِیَابُ قَوْمٍ ، لَوْ رَضِیَہَا اللّٰہُ لَہُمْ ، لَمْ یُلْبِسْہُمْ اِیَّاہَا ، لَا یَصْلُحُ ، أَوْ لَا یَحِلُّ ، اِلَّا أُصْبُعَیْنِ أَوْ ثَلَاثًا أَوْ أَرْبَعًا یَعْنِی : الْحَرِیْرَ .
٦٥٤٥: سوید بن غفلہ کہتے ہیں کہ ہم حضرت عمر (رض) کی خدمت میں آئے ہم نے فارسیوں کا لباس پہن رکھا تھا یا کسری کے لوگوں کا لباس تھا تو آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ ان چہروں کو دور کرے۔ ہم نے پلٹ کر ان کپڑوں کو اتار پھینکا اور عرب کا لباس زیب تن کیا پھر ہم ان کی خدمت میں گئے تو آپ نے فرمایا۔ تم ان لوگوں سے بہتر ہو جو میرے پاس آئے انھوں نے دوسری قوم کا لباس پہن رکھا تھا اگر اللہ تعالیٰ اس قوم پر راضی ہوتا تو ان کو یہ لباس نہ پہناتا اور یہ ریشم درست نہیں یا حلال نہیں مگر دو یا تین یا چار انگلیوں کی مقدار۔