۶۵۴۷: حَدَّثَنَا أَبُوْبَکْرَۃَ قَالَ : ثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ صَفْوَانَ قَالَ : اسْتَأْذَنَ سَعْدُ بْنُ أَبِیْ وَقَّاصٍ ، عَلٰی ابْنِ عَامِرٍ ، وَتَحْتَہُ مَرَافِقُ مِنْ حَرِیْرٍ ، فَأَمَرَ بِہَا فَرُفِعَتْ فَدَخَلَ عَلَیْہِ سَعْدٌ ، وَعَلَیْہِ مِطْرَفٌ ، شَطْرُہُ حَرِیْرٌ .فَقَالَ لَہٗ ابْنُ عَامِرٍ : یَا أَبَا اِسْحَاقَ ، ، اسْتَأْذَنْتَ عَلِیَّ وَتَحْتِی مَرَافِقُ مِنْ حَرِیْرٍ ، فَأَمَرْتُ بِہَا فَرُفِعَتْ .فَقَالَ : نِعْمَ الرَّجُلُ أَنْتَ ، یَا ابْنَ عَامِرٍ ، اِنْ لَمْ تَکُنْ مِنْ الَّذِیْنَ قَالَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ أَذْہَبْتُمْ طَیِّبَاتِکُمْ فِیْ حَیَاتِکُمْ الدُّنْیَا وَاسْتَمْتَعْتُمْ بِہَا ؛ لَأَنْ أَضْطَجِعَ عَلٰی جَمْرِ الْغَضَائِ ، أَحَبُّ اِلَیَّ مِنْ أَنْ أَضْطَجِعَ عَلَی مَرَافِقِ حَرِیْرٍ. قَالَ فَہٰذَا عَلَیْکَ مِطْرَفٌ ، شَطْرُہُ خَزٌّ ، وَشَطْرُہُ حَرِیْرٌ قَالَ : اِنَّمَا یَلِیْ جِلْدِی مِنْہُ الْخَزُّ .
٦٥٤٧: صفوان بن عبداللہ کہتے ہیں کہ حضرت سعد بن ابی وقاص (رض) نے ابن عامر (رض) کے ہاں آنے کی اجازت طلب کی ان کے نیچے ریشمی گدے تھے انھوں نے ان کو اٹھانے کا حکم دیا حضرت سعد (رض) ان کے ہاں آئے تو انھوں نے ایک چادر پہن رکھی تھی جس کی ایک جانب ریشم کی تھی ان کو ابن عمار (رض) نے کہا اے ابو اسحاق ! آپ نے جب اجازت طلب کی تو میرے نیچے ریشمی گدا تھا میں نے ان کو اٹھانے کا حکم دیا تو وہ اٹھا لیے گئے۔ تو انھوں نے کہا اے ابن عامر ! تم خوب آدمی ہو اگر تو ان لوگوں سے نہ ہو جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” اذہبتم طیباتکم فی حیاتکم الدنیا “ (الاحقاف : ٢٠) کیونکہ غضباء نام درخت کے انگاروں پر لوٹنا مجھے ریشمی گدے پر لیٹنے کی بنسبت زیادہ پسند ہے۔ تو ابن عامر (رض) کہنے لگے یہ تم نے چادر اوڑھ رکھی ہے جس کی ایک جانب ریشم کی ہے اور ایک جانب اون اور ریشم کی ہے تو وہ کہنے لگے میری جلد ریشم سے ملاصق ہے۔