hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 6551

.

الطحاوي

6551
Al Tahawi
۶۵۴۹: حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ شُعَیْبٍ قَالَ : ثَنَا ابْنُ الْخَصِیْبِ ، قَالَ : ثَنَا یَزِیْدُ بْنُ زُرَیْعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَوْنٍ ، قَالَ : لَا أَعْلَمُہُ اِلَّا قَالَ عَنِ الْحَسَنِ قَالَ : دَخَلْنَا عَلٰی ابْنِ عُمَرَ بِالْبَطْحَائِ فَقَالَ لَہٗ رَجُلٌ : اِنَّ ثِیَابَنَا ہٰذِہٖ، یُخَالِطُہَا الْحَرِیْرُ .قَالَ : دَعُوْھُ ، قَلِیْلَہٗ وَکَثِیْرَہُ .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَذَہَبَ ذَاہِبُوْنَ اِلٰی أَنَّ مَا حَرُمَ مِنْ ذٰلِکَ ، فَقَدْ دَخَلَ فِیْہِ النِّسَائُ وَالرِّجَالُ جَمِیْعًا ، وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِقَوْلِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ لَبِسُہٗ فِی الدُّنْیَا ، لَمْ یَلْبَسْہُ فِی الْآخِرَۃِ وَلَمْ یَخُصَّ فِیْ ذٰلِکَ الرِّجَالَ دُوْنَ النِّسَائِ .قَالُوْا : قَدْ رَأَیْنَا آنِیَۃَ الذَّہَبِ وَالْفِضَّۃِ ، حُرِّمَتْ عَلَی الْمُسْلِمِیْنَ ، ؛ لِأَنَّہَا آنِیَاتُ الْکُفَّارِ ، فَاسْتَوَی فِیْ ذٰلِکَ النِّسَائُ وَالرِّجَالُ .فَکَذٰلِکَ الْحَرِیْرُ ، لَمَّا حَرُمَ عَلَی الْمُسْلِمِیْنَ ؛ لِأَنَّہٗ لِبَاسُ الْکُفَّارِ ، اسْتَوَی فِیْہِ الرِّجَالُ وَالنِّسَائُ جَمِیْعًا .فَکَانَ مِنَ الْحُجَّۃِ عَلَی مَنْ ذَہَبَ اِلَی ہٰذَا الْقَوْلِ ، أَنَّہٗ قَدْ نُہِیَ عَنْ لُبْسِ الثِّیَابِ الْمُصَبَّغَاتِ ، وَقِیْلَ : اِنَّہَا لِبَاسُ الْکُفَّارِ .وَرُوِیَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ ذٰلِکَ ،
٦٥٤٩: حسن کہتے ہیں کہ ہم حضرت ابن عمر (رض) کی خدمت میں بطحاء میں داخل ہوئے تو ان کو ایک آدمی نے کہا ہمارے یہ کپڑے ریشم ملے ہوئے ہیں آپ نے فرمایا اس کے قلیل و کثیر کو چھوڑ دو ۔ امام طحاوی (رح) کہتے ہیں : بعض لوگ تو ادھر چلے گئے کہ مرد و عورتیں سب پر ریشم حرام ہے۔ انھوں نے اس سلسلہ میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قول کو دلیل بنایا ہے ” من لبسہ فی الدنیا یلبسہ فی الآخرہ “ اس میں مردوں اور عورتوں میں سے کسی کی تخصیص نہیں ہے۔ اس کی مزید دلیل یہ ہے کہ سونے چاندی کے برتن مسلمانوں پر حرام ہیں کیونکہ وہ کفار کے برتن ہیں اس میں مردوں اور عورتوں کا کوئی فرق نہیں اسی طرح ریشم جب مسلمانوں کے لیے حرام ہے کیونکہ وہ کفار کا لباس ہے تو اس میں مردوں اور عورتوں کا حکم برابر ہے۔ ان کو جواب میں کہا جائے گا کہ رنگین کپڑوں کے پہننے کی ممانعت ہے اور ان کو کفار کا لباس قرار دیا گیا اور اس سلسلہ میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مندرجہ ذیل روایات وارد ہیں۔ اب ہم غور کرتے ہیں کہ کیا ثیاب کفار ہونے کی علت کی وجہ سے ان کپڑوں کا عورتوں کو پہننا حرام ہے یا نہیں۔ (روایات ملاحظہ ہوں)