۶۶۱۸: وَحَدَّثَنَا عَلِیٌّ قَالَ : ثَنَا خَلَّادُ بْنُ یَحْیَی ، قَالَ : ثَنَا یُوْنُسُ بْنُ أَبِیْ اِسْحَاقَ ، قَالَ : ثَنَا أَبُو السَّفَرِ ، قَالَ : رَأَیْتُ عَلَی الْبَرَائِ ، خَاتَمًا مِنْ ذَہَبٍ .فَذَہَبُوْا اِلَی تَقْلِیْدِ ہٰذِہِ الْآثَارِ ، مَعَ مَا تَعَلَّقُوْا بِہٖ فِیْ ذٰلِکَ مِنْ حَدِیْثِ الْبَرَائِ ، الَّذِیْ ذٰکَرْنَاہُ فِی أَوَّلِ ہٰذَا الْبَابِ .وَلَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ مِنَ النَّظَرِ ، أَنَّہٗ قَدْ نَہٰی عَنِ اسْتِعْمَالِ الذَّہَبِ وَالْفِضَّۃِ ، نَہْیًا وَاحِدًا ، وَمَنَعَ مِنَ الْأَکْلِ فِیْ آنِیَۃِ الْفِضَّۃِ ، کَمَا مَنَعَ مِنَ الْأَکْلِ فِیْ آنِیَۃِ الذَّہَبِ .فَلَمَّا کَانَ قَدْ سَوَّی فِیْ ذٰلِکَ ، بَیْنَ الذَّہَبِ وَالْفِضَّۃِ ، وَجَعَلَ حُکْمَہُمَا وَاحِدًا ، ثُمَّ ثَبَتَ أَنَّ خَاتَمَ الْفِضَّۃِ ، لَیْسَ مَا نَہٰی عَنْہُ، کَانَ کَذٰلِکَ خَاتَمُ الذَّہَبِ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ ، فَکَرِہُوْا خَوَاتِیْمَ الذَّہَبِ لِلرِّجَالِ ، وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ ،
٦٦١٨: یونس بن ابی اسحاق کہتے ہیں کہ ہمیں ابوالسفر نے بیان کیا کہ میں نے حضرت برائ (رض) کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی دیکھی۔ پہلی روایت براء کے علاوہ ان آثار کو دلیل بناتے ہوئے سونے کی انگوٹھی کا جواز فریق اول نے ثابت کیا ہے۔ ان کی دوسری قیاسی دلیل یہ ہے کہ سونے چاندی کے استعمال کی ممانعت یکساں ہے چاندی کے برتنوں میں بھی اسی طرح کھانا ممنوع ہے جیسا سونے کے برتنوں میں جب دونوں حرمت میں برابر ہیں تو ان کا حکم ایک رہا جب یہ ثابت ہوگیا کہ چاندی کی انگوٹھی ممانعت میں شامل نہیں تو سونے کی انگوٹھی کا بھی یہی حکم ہوا۔
فریق ثانی کا مؤقف : سونے کی انگوٹھی مردوں کے لیے مکروہ تحریمی ہے اس کی دلیل یہ روایات ہیں۔