۶۶۴۲: حَدَّثَنَا یَزِیْدُ بْنُ سِنَانٍ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِیَاثٍ ، قَالَ : ثَنَا أَبُوْ عَوَانَۃَ ، عَنْ أَبِیْ بِشْرٍ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَہٗ۔فَثَبَتَ بِہٰذِہِ الْآثَارِ ، أَنَّ خَوَاتِیْمَ الذَّہَبِ ، قَدْ کَانَ لُبْسُہَا مُبَاحًا ، ثُمَّ نَہٰی عَنْہُ بَعْدَ ذٰلِکَ .فَثَبَتَ أَنَّ مَا فِیْہِ تَحْرِیْمُ لُبْسِہَا ، ہُوَ النَّاسِخُ لِمَا فِیْہِ اِبَاحَۃُ لُبْسِہَا .فَہٰذَا وَجْہُ ہٰذَا الْبَابِ مِنْ طَرِیْقِ الْآثَارِ .وَأَمَّا النَّظَرُ فِیْ ذٰلِکَ ، فَقَدْ ذَکَرْنَاہُ فِیْمَا تَقَدَّمَ ذِکْرُنَا لَہٗ، فِیْ غَیْرِ ہٰذَا الْمَوْضِعِ ، وَأَنَّہٗ یُوَافِقُ مَا ذَہَبَ اِلَیْہِ مَنْ ذَہَبَ فِیْ ذٰلِکَ اِلَی الْاِبَاحَۃِ .وَلٰـکِنَّ السُّنَّۃَ فِیْ ذٰلِکَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فِی النَّہْیِ عَنْ ذٰلِکَ ، قَدْ حَظَرَتْ ذٰلِکَ ، وَمَنَعَتْ مِنْہُ .وَمِمَّا رُوِیَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی النَّہْیِ عَنْ ذٰلِکَ أَیْضًا۔
٦٦٤٢: نافع نے حضرت ابن عمر (رض) سے انھوں نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے۔ ان آثار سے معلوم ہوا کہ وہ روایات جن میں پہننے کی ممانعت وارد ہوئی ہے وہ ناسخ ہیں اور اباحت والی روایات منسوخ ہیں۔ آثار کے پیش نظر اس باب کا یہی حکم ہے۔ نظر کا جو تقاضا ہے وہ ہم پیچھے ذکر کر آئے قیاس تو یہی چاہتا ہے کہ سونے کا استعمال مباح ہو لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد اس کی ممانعت میں وارد ہوا جس میں اس سے منع کردیا اور روک دیا۔
ممانعت کی چند روایات :