۶۷۳۰ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُزَیْمَۃَ قَالَ : ثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ : ثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَیُّوْبَ ، عَنْ عِکْرَمَۃَ ، عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَہٗ۔فَلَمْ یَکُنْ ہٰذَا النَّہْیُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، عَلٰی تَحْرِیْمِ ذٰلِکَ ، عَلٰی أُمَّتِہٖ، حَتّٰی یَکُوْنَ مَنْ فَعَلَہٗ مِنْہُمْ عَاصِیًا لَہٗ، وَلٰـکِنْ لِمَعْنًیْ قَدْ اُخْتُلِفَ فِیْہِ مَا ہُوَ ؟ .
٦٧٣٠: عکرمہ نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے انھوں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح کی روایت کی ہے۔ پس یہ ممانعت جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے امت پر تحریم کے لیے نہیں کہ جس کے کرنے والے کو گناہ گار کہا جائے بلکہ اس کا معنی مختلف لیا گیا ہے۔ جیسا کہ ان روایات میں ملاحظہ کریں گے۔
پانی کا متعفن ہونا :