۶۷۶۹ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُزَیْمَۃَ ، قَالَ : ثَنَا مُسْلِمُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ ، قَالَ : ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، قَالَ: ثَنَا أَبُو غَالِبٍ ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَائِ قَالَتْ : قَدِمَ عَلَیْنَا سَلْمَانُ ، فَقَالَ : أَیْنَ أَخِیْ ؟ قُلْتُ فِی الْمَسْجِدِ ، فَأَتَاہٗ، فَلَمَّا رَآہٗ اعْتَنَقَہٗ .فَہٰؤُلَائِ أَصْحَابُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَدْ کَانُوْا یَتَعَانَقُوْنَ. فَدَلَّ ذٰلِکَ عَلٰی أَنَّ مَا رُوِیَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ اِبَاحَۃِ الْمُعَانَقَۃِ ، مُتَأَخِّرٌ عَمَّا رُوِیَ عَنْہُ مِنَ النَّہْیِ عَنْ ذٰلِکَ .فَبِذٰلِکَ نَأْخُذُ ، وَہُوَ قَوْلُ أَبِیْ یُوْسُفَ رَحِمَہُ اللّٰہُ .
٦٧٦٩: ابو غالب نے ام الدردائ (رض) سے روایت کی ہے کہ ہمارے ہاں سلمان (رض) آئے اور انھوں نے پوچھا میرا بھائی کہاں ہے ؟ میں نے کہا مسجد میں۔ چنانچہ وہ ان کے پاس گئے جب ان کو دیکھا تو ان سے معانقہ کیا۔ یہ اصحاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں جو کہ باہمی معانقہ کرتے تھے۔ اس سے یہ ثابت ہوگیا کہ جو روایات معانقہ کی اباحت والی ہیں وہ ممانعت والی روایات سے متاخر ہیں۔ ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں یہ ابو یوسف (رح) کا قول ہے۔ اس باب میں امام طحاوی نے امام ابو یوسف (رح) کے مسلک کو اپنایا ہے اور معانقہ کو درست و مباح قرار دیا ہے۔