۶۸۱ : حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ قَالَ : ثَنَا سَعِیْدُ بْنُ مَنْصُوْرٍ، قَالَ : ثَنَا ہُشَیْمٌ، قَالَ : أَخْبَرَنَا یَزِیْدُ بْنُ أَبِیْ زِیَادٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ أَبِیْ لَیْلٰی، عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ (إِنَّ مِنَ الْحَقِّ عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ أَنْ یَغْتَسِلَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَأَنْ یَمَسَّ مِنْ طِیْبٍ، إِنْ کَانَ عِنْدَ أَہْلِہٖ، فَإِنْ لَمْ یَکُنْ عِنْدَہُمْ طِیْبٌ فَإِنَّ الْمَائَ طِیْبٌ) .قَالَ : أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ إِلٰی إِیْجَابِ الْغُسْلِ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ، وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِھٰذِہِ الْآثَارِ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ فَقَالُوْا : لَیْسَ الْغُسْلُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ بِوَاجِبٍ، وَلَکِنَّہٗ مِمَّا قَدْ أَمَرَ بِہٖ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، لِمَعَانٍ قَدْ کَانَتْ .
٦٨١: عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ نے کہا کہ براء بن عازب (رض) کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ جمعہ کے دن غسل کرے اور خوشبو لگائے اگر اس کے اہل کے ہاں ہو۔ اگر خوشبو ہو تو پانی ہی خوشبو ہے۔ (وہ صفائی کر دے گا) امام طحاوی (رح) نے فرمایا ایک قوم کا کہنا یہ ہے کہ جمعہ کے دن غسل واجب ہے اور انھوں نے دلیل میں ان روایات کو پیش کیا مگر دوسروں نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ جمعہ کے دن غسل واجب نہیں لیکن جمعہ کے دن غسل بعض مقاصد کی خاطر کیا جائے گا۔ ان میں سے بعض وہ ہیں جو ابن عباس (رض) کی روایت سے نقل کی گئی ہیں۔
تخریج : مصنف ابن ابی شیبہ کتاب الصلاۃ ٢؍٩٢۔
حاصل روایات :
ان اکیس روایات سے جو مختلف اسناد کے ساتھ مختلف صحابہ کرام (رض) سے مروی ہیں ثابت ہوتا ہے کہ جمعہ کے دن غسل کا حکم تاکیدی ہے اسی وجہ سے فریق اوّل نے اس کو واجب قرار دیا ہے۔
فریق ثانی کا مؤقف :
جمعہ کے دن غسل واجب نہیں بلکہ اس کے حکم دینے کے کچھ اسباب ہیں جو مندرجہ ذیل روایات سے بخوبی معلوم ہوجائیں گے یہ گویا فریق اوّل کا جواب بھی بن جائے گا۔