hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 6817

.

الطحاوي

6817
Al Tahawi
۶۸۱۴ : حَدَّثَنَا رَبِیْعٌ الْمُؤَذِّنُ قَالَ : ثَنَا أَسَدٌ قَالَ : ثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ ، قَالَ : ثَنَا زِیَادُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، قَالَ : ثَنَا أَبُوْ بُرْدَۃَ بْنُ أَبِیْ مُوْسٰی قَالَ : ثَنَا الْأَغَرُّ الْمُزَنِیّ قَالَ : خَرَجَ اِلَیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، رَافِعًا یَدَیْہِ وَہُوَ یَقُوْلُ : یَا أَیُّہَا النَّاسُ ، اسْتَغْفِرُوْا رَبَّکُمْ ، ثُمَّ تُوْبُوْا اِلَیْہٖ، فَوَاللّٰہِ اِنِّیْ لَأَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ ، وَأَتُوْبُ اِلَیْہِ فِی الْیَوْمِ ، مِائَۃَ مَرَّۃٍ : قَالُوْا : فَہٰذَا کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُہٗ، لِأَنَّہٗ مَعْصُوْمٌ مِنَ الذُّنُوْبِ ، وَأَمَّا غَیْرُہُ فَلَا یَنْبَغِی أَنْ یَقُوْلَ ذٰلِکَ ، لِأَنَّہٗ .غَیْرُ مَعْصُوْمٍ مِنَ الْعَوْدِ ، فِیْمَا تَابَ مِنْہُ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ ، فَلَمْ یَرَوْا بِہٖ بَأْسًا ، أَنْ یَقُوْلَ الرَّجُلُ أَتُوْبُ اِلَی اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ۔وَکَانَ مِنَ الْحُجَّۃِ لَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ ، مَا قَدْ رُوِیَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ .
٦٨١٤: ابو بردہ بن ابو موسیٰ کہتے ہیں کہ ہمیں حضرت اغر مزنی (رض) نے بیان کیا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھر سے باہر تشریف لائے اس طرح کہ آپ اپنے ہاتھوں کو بلند کر کے فرما رہے تھے : ” یا ایہا الناس استغفروا ربکم “ اے لوگو ! اللہ تعالیٰ سے جو تمہارا رب ہے استغفار کرو اور اس کی طرف رجوع کرو ‘ اللہ کی قسم میں دن میں سو مرتبہ اللہ کے حضور توبہ و استغفار کرتا ہوں ۔ یہ کلمات رسول معصوم (رض) فرماتے ہیں۔ باقی رہے ان کے علاوہ لوگ ان کو یہ کہنا مناسب نہیں کیونکہ وہ اس گناہ کی طرف لوٹنے سے معصوم نہیں جس سے انھوں نے ابھی توبہ کی ہے۔ ان کلمات کے کہنے میں کوئی حرج نہیں کہ آدمی کہے ” اتوب الی اللہ عزوجل “ ان کی دلیل یہ روایات ہیں۔