۶۸۱۸ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُزَیْمَۃَ وَفَہْدٌ ، قَالَا : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ صَالِحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِی اللَّیْثُ قَالَ : حَدَّثَنِی ابْنُ الْہَادِ ، عَنْ یَحْیٰی بْنِ سَعِیْدٍ عَنْ زُرَارَۃَ ، عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا قَالَتْ : مَا کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْمُ مِنَ الْمَجْلِسِ اِلَّا قَالَ : سُبْحَانَک اللّٰہُمَّ رَبِّیْ وَبِحَمْدِکَ، لَا اِلٰہَ اِلَّا أَنْتَ ، أَسْتَغْفِرُکَ وَأَتُوْبُ اِلَیْکَ .فَقُلْتُ لَہٗ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، مَا أَکْثَرُ مَا تَقُوْلُ ہٰؤُلَائِ الْکَلِمَاتِ ، اِذَا قُمْتَ؟ فَقَالَ : اِنَّہٗ لَا یَقُوْلُہُنَّ أَحَدٌ حِیْنَ یَقُوْمُ مِنْ مَجْلِسِہٖ اِلَّا غُفِرَ لَہٗ، مَا کَانَ فِیْ ذٰلِکَ الْمَجْلِسِ۔ فَہٰذَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ رُوِیَ عَنْہُ أَیْضًا مَا ذَکَرْنَا ، وَہُوَ أَوْلَی الْقَوْلَیْنِ عِنْدَنَا ، لِأَنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ ، قَدْ أَمَرَ بِذٰلِکَ فِیْ کِتَابِہٖ فَقَالَ : فَتُوْبُوْا اِلٰی بَارِئِکُمْ وَقَالَ : تُوْبُوْا اِلَی اللّٰہِ تَوْبَۃً نَصُوْحًا۔وَأَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِذٰلِکَ ، فِی الْآثَارِ الَّتِیْ ذَکَرْنَا ، فَلِہٰذَا أَبَحْنَا ذٰلِکَ ، وَخَالَفْنَا أَبَا جَعْفَرٍ ، فِیْمَا ذَہَبَ اِلَیْہِ عَلٰی مَا ذَکَرْنَا فِیْ أَوَّلِ ہٰذَا الْبَابِ .فَاِنْ قَالَ قَائِلٌ : فَاِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ ، اِنَّمَا أَمَرَہُمْ فِیْ کِتَابِہٖ أَنْ یَتُوْبُوْا ، وَالتَّوْبَۃُ ہِیَ تَرْکُ الذُّنُوْبِ ، وَتَرْکُ الْعَوْدِ اِلَیْہَا ، وَلَیْسَ ذٰلِکَ بِقَوْلِہِمْ قَدْ تُبْنَا اِنَّمَا ذٰلِکَ، الْخُرُوْجُ عَنِ الذُّنُوْبِ ، وَتَرْکُ الْعَوْدِ اِلَیْہَا قَالَ : وَکَذٰلِکَ رُوِیَ فِیْ قَوْلِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ تُوْبُوْا اِلَی اللّٰہِ تَوْبَۃً نَصُوْحًا۔
٦٨١٨: زرارہ نے حضرت عائشہ (رض) سے وہ فرماتی ہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جس کسی مجلس سے اٹھنے لگتے تو یہ پڑھتے۔ ” سبحانک اللّٰہم۔۔۔“ میں نے گزارش کی یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! جب آپ مجلس سے اٹھتے ہیں تو یہی کلمات کہتے ہیں آپ نے فرمایا ان کلمات کو جب کوئی آدمی اپنی مجلس سے اٹھتے ہوئے کہہ لیتا ہے تو اس کے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں جو کہ اس سے اس مجلس میں سرزد ہوئے۔ یہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے وہی مروی ہے جو ہم نے ذکر کیا اور ہمارے نزدیک یہ بہتر قول ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اس کا حکم فرمایا ہے۔ ” فتوبوا الی بارئکم “ (البقرہ : ٥٤) اور فرمایا : ” توبوا الی اللہ توبۃ نصوحا “ (التحریم : ٨) اللہ تعالیٰ سے خالص توبہ کرو۔ مندرجہ بالا آثار میں بھی اسی بات کا حکم فرمایا اسی وجہ سے ہم نے اس کلمہ کو مباح قرار دیا اور ابو جعفر کے قول کی مخالفت کی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں توبہ کا حکم فرمایا ہے کہ وہ توبہ کریں اور توبہ تو گناہ کے چھوڑنے کو کہا جاتا ہے اور اس کی طرف دوبارہ نہ لوٹنا اور تبنا کا لفظ توبہ نہیں بلکہ یہ تو گناہ سے خروج ہے۔ اور اس کی طرف نہ لوٹنا ہے اور اسی طرح قرآن مجید میں فرمایا ہے۔ ” توبوا الی اللہ توبۃ نصوحا “ (التحریم : ٨)