hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 6829

.

الطحاوي

6829
Al Tahawi
۶۸۲۶ : حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : ثَنَا ابْنُ وَہْبٍ قَالَ : أَخْبَرَنِیْ مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَتِیْکٍ أَنَّ عَتِیْکَ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ عَتِیْکٍ ، وَہُوَ جَدُّ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ أَبُو أُمِّہٖ، أَخْبَرَہٗ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَتِیْکٍ أَخْبَرَہٗ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ جَائَ یَعُوْدُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ ثَابِتٍ، فَوَجَدَہُ قَدْ غُلِبَ ، فَصَاحَ بِہٖ فَلَمْ یُجِبْہُ .فَاسْتَرْجَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَقَالَ غَلَبَنَا عَلَیْکَ یَا أَبَا الرَّبِیْعِ فَصَاحَ النِّسْوَۃُ وَبَکَیْنَ ، فَجَعَلَ ابْنُ عَتِیْکٍ یُسْکِتُہُنَّ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ دَعْہُنَّ فَاِذَا وَجَبَ ، فَلَا تَبْکِیَنَّ بَاکِیَۃٌ .قَالُوْا : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، وَمَا الْوُجُوْبُ قَالَ اِذَا مَاتَ۔قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ اِلٰی کَرَاہَۃِ الْبُکَائِ عَلَی الْمَیِّتِ ، وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِہٰذَا الْحَدِیْثِ ، وَبِمَا قَدْ رُوِیَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنَّ الْمَیِّتَ ، لَیُعَذَّبُ بِبُکَائِ أَہْلِہٖ عَلَیْہِ۔
٦٨٢٦: عبداللہ بن عبداللہ نے جابر بن عتیق سے روایت کی وہ بتاتے ہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عبداللہ بن ثابت کی تیمارداری کے لیے آئے ان پر بیماری کا غلبہ دیکھا آپ نے ان کو آواز دی مگر انھوں نے جواب نہ دیا پھر جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اناللہ پڑھی اور فرمایا اے ابوالربیع ہم تیرے معاملے میں مغلوب کردیئے گئے عورتوں نے چیخنا اور رونا شروع کردیا ابن عتیق ان کو خاموش کرنے لگے تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ان کو چھوڑ دو جب واجب ہوجائے تو کوئی رونے والی نہ روئے انھوں نے کہا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) واجب ہونا کیا ہے فرمایا موت کا آنا۔ امام طحاوی (رح) کہتے ہیں کہ میت پر رونا مکروہ ہے بعض لوگوں کا یہ خیال ہے اور انھوں نے اسی روایت کو دلیل بنایا اور دوسری وہ روایت کہ میت کو اس کے گھر والوں کے رونے سے عذاب ہوتا ہے۔
تخریج : ابو داؤد فی الجنائز باب ١١‘ نسائی فی الجنائز باب ١٤۔
خلاصہ الزام :
اہل میت کا اس پر بلابین رونا بھی مکروہ ہے اس لیے کہ میت پر رونے سے اس کو عذاب ہوتا ہے۔
فریق ثانی : میت پر رونے میں کچھ حرج نہیں بشرطیکہ زبان سے فحش کلمات جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پر مشتمل ہوں اور نوحہ وغیرہ نہ کیا جائے۔