hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 6835

.

الطحاوي

6835
Al Tahawi
۶۸۳۲ : حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مَعْبَدٍ قَالَ : ثَنَا اِسْمَاعِیْلُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَیْدِ اللّٰہِ، عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا قَالَتْ : رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُقَبِّلُ عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُوْنٍ بَعْدَ مَوْتِہٖ، وَدُمُوْعُہٗ تَسِیْلُ عَلَی لِحْیَتِہِ۔فَفِیْ ہٰذِہِ الْآثَارِ الَّتِیْ ذٰکَرْنَا ، اِبَاحَۃُ الْبُکَائِ عَلَی الْمَوْتَی ، وَذٰلِکَ أَنَّ ذٰلِکَ غَیْرُ ضَار لَہُمْ ، وَلَا سَبَبَ لِعَذَابِہِمْ .وَلَوْلَا ذٰلِکَ ، لَمَا بَکَیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَلَا أَبَاحَ الْبُکَائَ ، وَلَمَنَعَ مِنْ ذٰلِکَ .فَاِنْ قَالَ قَائِلٌ : فَاِنَّ فِیْ حَدِیْثِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ الَّذِیْ ذٰکَرْت ، مَا یَدُلُّ عَلٰی نَسْخِ مَا کَانَ أَبَاحَ مِنْ ذٰلِکَ ، وَہُوَ قَوْلُہٗ وَلَا یَبْکِیْنَ عَلَی ھَالِکٍ بَعْدَ الْیَوْمِ۔قِیْلَ لَہٗ : مَا فِیْ ذٰلِکَ دَلِیْلٌ عَلٰی مَا ذَکَرْت ، قَدْ یَجُوْزُ أَنْ یَکُوْنَ قَوْلُہٗ : وَلَا یَبْکِیْنَ عَلَی ھَالِکٍ بَعْدَ الْیَوْمِ أَیْ مِنْ ہَلْکَاہُنَّ الَّذِیْنَ قَدْ بَکَیْنَ عَلَیْہِمْ مُنْذُ ہَلَکُوْا اِلٰی ھٰذَا الْوَقْتِ ، لِأَنَّ فِیْ ذٰلِکَ الْبُکَائِ مَا قَدْ أَتَیْنَ بِہٖ عَلٰی مَا جَلَا عَنْہُنَّ حُزْنَہُنَّ .وَقَدْ رُوِیَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ تَفْسِیْرِ الْبُکَائِ ، الَّذِیْ قَصَدَ اِلَی النَّہْیِ فِیْ نَہْیِہٖ عَنِ الْبُکَائِ عَلَی الْمَوْتٰی .
٦٨٣٢: قاسم نے عائشہ (رض) سے روایت کی کہ میں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا کہ وہ عثمان بن مظعون کو ان کی وفات کے بعد چوم رہے ہیں اس حال میں آپ کے آنسو داڑھی پر بہہ رہے ہیں۔ ان مذکورہ آثار میں مرنے والوں کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے اور نہ یہ ان کے عذاب کا سبب ہیں اگر یہ نہ ہوتا تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نہ روتے اور نہ رونے کو جائز قرار دیتے بلکہ اس سے ضرور روک دیتے۔ اعتراض : ابن عمر (رض) کی مذکورہ روایت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو مباح تھا وہ منسوخ ہوگیا اور وہ آپ کا یہ ارشاد ہے ” ولا یبکین علی حالک بعدالیوم “ الحدیث۔ آپ نے جو بات کہی اس کا اس میں کچھ بھی تذکرہ نہیں اور ممکن ہے کہ آپ کا یہ ارشاد ” ولا یبکین الی آخرہ کا مطلب یہ ہو کہ جو لوگ اب تک ہلاک ہوگئے ہیں جن پر تم رو چکی ہو ان بن پر مت رو کیونکہ اس رونے سے ان کا غم دور ہوجاتا ہے اور جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خود مرنے والوں پر رونے کی ممانعت کی وضاحت منقول ہے (جیسا اس روایت میں ہے)
حاصل : ان مذکورہ آثار میں مرنے والوں کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے اور نہ یہ ان کے عذاب کا سبب ہیں اگر یہ نہ ہوتا تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نہ روتے اور نہ رونے کو جائز قرار دیتے بلکہ اس سے ضرور روک دیتے۔
اعتراض : ابن عمر (رض) کی مذکورہ روایت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو مباح تھا وہ منسوخ ہوگیا اور وہ آپ کا یہ ارشاد ہے ” ولا یبکین علی حالک بعدالیوم “ الحدیث۔
الجواب : آپ نے جو بات کہی اس کا اس میں کچھ بھی تذکرہ نہیں اور ممکن ہے کہ آپ کا یہ ارشاد ” ولا یبکین الی آخرہ کا مطلب یہ ہو کہ جو لوگ اب تک ہلاک ہوگئے ہیں جن پر تم رو چکی ہو ان بن پر مت رو کیونکہ اس رونے سے ان کا غم دور ہوجاتا ہے اور جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خود مرنے والوں پر رونے کی ممانعت کی وضاحت منقول ہے (جیسا اس روایت میں ہے)