۶۸۴۸ : .فَمِنْہَا مَا حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوٗدَ ، قَالَ : ثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ الْمُنْذِرِ بْنِ الْحِزَامِیِّ ، قَالَ : ثَنَا مَعْنُ بْنُ عِیْسٰی ، قَالَ : حَدَّثَنِیْ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ : لَمَّا دَخَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ ، رَأٰیْ نِسَائً یَلْطِمْنَ وُجُوْہَ الْخَیْلِ بِالْخَمْرِ فَتَبَسَّمَ فَقَالَ یَا أَبَا بَکْرٍ ، کَیْفَ قَالَ حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ ؟ فَأَنْشَدَ أَبُوْبَکْرٍ .عَدِمْتُ بُنَیَّتِیْ اِنْ لَمْ تَرَوْہَا تُثِیْرُ النَّقْعَ مِنْ کَنَفٰی
کَدَائَ یُنَازَعْنَ الْأَعِنَّۃَ مُسْرَجَاتٍ یُلَطِّمُہُنَّ بِالْخُمُرِ النِّسَائُ
ہٰکَذَا حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوٗدَ ، وَأَہْلُ الْعِلْمِ بِالْعَرَبِیَّۃِ یَرَوْنَ الْبَیْتَ الْأَوَّلَ عَلٰی غَیْرِ ذٰلِکَ. تُثِیْرُ النَّقْعَ مَوْعِدُہَا کَدَائَ حَتّٰی تَسْتَوِیَ قَافِیَۃُ ہٰذَا الْبَیْتِ ، مَعَ قَافِیَۃِ الْبَیْتِ الَّذِیْ بَعْدَہٗ. قَالَ : فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اُدْخُلُوْہَا ، مِنْ حَیْثُ قَالَ۔
٦٨٤٨: معن بن عیسیٰ کہتے ہیں کہ مجھے ابن عمر (رض) نے نافع سے اور انھوں نے ابن عمر (رض) سے روایت کی ہے کہ جب جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فتح مکہ کے دن مکہ میں داخل ہوئے تو عورتوں کو دیکھا کہ وہ گھوڑوں کے چہروں کو اپنے دوپٹے سے صاف کر رہی تھیں۔ آپ نے خوشی کا اظہار فرمایا اور فرمایا اے ابوبکر (رض) ! حسان بن ثابت نے کیا کہا ہے جناب حضرت ابوبکر (رض) نے یہ اشعار پڑھے۔ میں اپنے کو گم کردوں اگر تم گھوڑوں کو مقام کداء میں میرے کندھوں کے اوپر غبار اڑاتے نہ دیکھو۔ وہ اس حال میں مقابلہ کرتے ہیں کہ ان کو لگامیں ڈالی گئیں ہیں اور ان پر زین کسے گئے ہیں اور عورتیں اپنے دوپٹوں سے ان کے چہروں (کے غبار) کو صاف کر رہی ہیں۔ ہمیں احمد بن داؤد نے اسی طرح بیان کیا عربی کا علم رکھنے والے پہلے شعر کو اور انداز سے پڑھتے ہیں۔ ” ستثیرالنقع موعدھا کدائ “ وہ گھوڑے گرد و غبار اڑاتے ہیں جن کا مقام کداء ہے۔ اس طرح سے مصرعہ کا قافیہ دوسرے شعر کے قافیہ کے مطابق ہوجاتا ہے۔ تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ ان گھوڑوں کو وہیں سے داخل کرو جہاں سے حسان نے کہا ہے۔