۶۸۸۱ : حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ ، قَالَ : ثَنَا حِبَّانُ بْنُ ہِلَالٍ ، قَالَ : ثَنَا أَبُوْ عَوَانَۃَ ، عَنْ مَنْصُوْرٍ ، فَذَکَرَ بِاِسْنَادِہٖ مِثْلَہٗ۔قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ اِلٰی ھٰذَا ، فَقَالُوْا : ہٰکَذَا یَنْبَغِی أَنْ یَقُوْلَ الْعَاطِسُ وَیُقَالُ لَہٗ، عَلٰی مَا فِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ ، ہٰکَذَا مَذْہَبُ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ ، وَأَبِیْ یُوْسُفَ ، وَمُحَمَّدٍ ، رَحِمَہُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ ، فَقَالُوْا : بَلْ یَقُوْلُ الْعَاطِسُ بَعْدَ أَنْ یُشَمَّتَ یَہْدِیْکُمُ اللّٰہُ وَیُصْلِحُ بَالَکُمْ۔وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ۔
٦٨٨١: ابو عوانہ نے منصور سے پھر انھوں نے اپنی اسناد سے اسی طرح روایت کی ہے۔ امام طحاوی (رح) کہتے ہیں : بعض لوگ کہتے ہیں چھینک والے کو اسی طرح کہنا چاہیے اور اس کو اسی طرح کہا جائے جیسے روایت میں ہے۔ امام ابوحنیفہ ابو یوسف ‘ محمد رحمہم اللہ کا مذہب اسی طرح ہے۔ چھینکنے والے کو جب یرحمک اللہ کہا جائے تو اس کے بعد اسے اس طرح کہنا چاہیے یہدیکم اللہ ویصلح بالکم۔ اللہ تعالیٰ تمہیں ہدایت دے اور تمہارے دل کی درستی کرے انھوں نے ان روایات کو دلیل بنایا ہے۔