۶۸۹۰ : حَدَّثَنَا رَبِیْعٌ الْمُؤَذِّنُ وَحُسَیْنُ بْنُ نَصْرٍ قَالَا : ثَنَا یَحْیٰی بْنُ حَسَّانٍ ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الْعَزِیْزِ بْنُ أَبِیْ سَلَمَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ دِیْنَارٍ ، عَنْ أَبِیْ صَالِحٍ السَّمَّانِ ، عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَہٗ۔فَثَبَتَ بِذٰلِکَ ، انْتِفَائُ مَا قَالَ اِبْرَاھِیْمُ ، وَکَانَ مَا رُوِیَ مِنْ ہٰذَا عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، أَصْبَحَ مَجِیْئًا ، وَأَظْہَرُ مِمَّا رُوِیَ ، فِیْ خِلَافِہٖ، فَہُوَ أَحَبُّ اِلَیْنَا ، مِمَّا خَالَفَہٗ.
٦٨٩٠: ابو صالح السمان نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے انھوں نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح کی روایت کی ہے۔ اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ ابراہیم کی بات درست نہیں ہے جو جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے وارد ہے وہ روایت کے لحاظ سے زیادہ درست ہے اور اس سے زیادہ واضح اور ہمیں زیادہ پسند ہے اس سے جو اس کے خلاف ہے۔ امام طحاوی (رح) کا رجحان قول ثانی کی طرف ہے اسی لیے اس کو زیادہ صحیح اور اظہر قرار دیا ہے۔